کا
3908
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2009/01/19
 
سائٹ کے کوڈ fa1038 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 3997
سوال کا خلاصہ
تمام اعمال کو نیت خالص کے ساتھـ کیسےانجام دیا جاسکتا هے؟
سوال
اگر کوئی شخص اپنے تمام اعمال کو نیت واخلاص کے ساتھـ انجام دینا چاهے، اسے کیا کرنا چاهئے ؟ وه کیسے همیشه اس مقصد ( عمل میں اخلاص) کو مدنظر رکھـ سکتا هے ؟
ایک مختصر

اخلاص، یعنی کام کو انجام دینے مین اصلی محرّک ، بندگی ، شائستگی اور رضائے الهی کا هو نا هے ، نه غیر خدا کی مرضی اور شائستگی – پس پهلے اخلاص کی رکاوٹوں یعنی ، ریاکاری ، دنیا پرستی اور شیطانی وسوسوں کو دور کر نا چاهئے ، اس کے بعد ایمان اور خداوند متعال کے بارے میں معرفت کو تقویت بخشنے اور اخلاص کی قدر ومنزلت جانے اور اخلاص کو نقصان پهنچانے والی چیزوں سے دور ی اختیار کر نے ، بندگی کے ظاهروباطن کو هر جهت سے هم آهنگ کرنے اور خدا کی بندگی اور اس کے ساتھـ رازونیاز کے سلسله میں احساس کم تری کے ذریعه اخلاص کے بعض مراحل کو حاصل کر نا چاهئے –

تفصیلی جوابات

ذات باری تعالی کی بندگی میں اخلاص حاصل کر نے کی کیفیت کے سلسله میں کئے گئے مذکوره سوال کا جواب واضح هو نے کے لئے درج ذیل مطالب کو جاننا ضروری هے :

اخلاص ، مراتب اخلاص ، موانع اخلاص اور اخلاص کو حاصل کر نے کے طریقے:

١- اخلاص[1]: یعنی کسی کام کو انجام دینے میں اس کا اصلی محرک شائسته بندگی ، اور رضائے الهی هو نه خدا کے علاوه کسی اور کی بندگی و رضا-

٢- بندگی و اخلاص کے مراتب [2]: بندگی واخلاص کے مراتب، نیت کے مراتب پر منحصر هیں ، کیونکه بندگی ، عذاب الهی کے خوف ، خدا کی طرف سے اجر وثواب پانے ، خدا کی عدم نا فرمانی واطاعت کے سلسله میں احساس شرمندگی ، خداوند متعال کے بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کر نے ، انسان کے معنوی کمالات تک پهنچنے ، پروردگار عالم کی بندگی کر نے کی شائستگی اور خداوند متعال سے عشق ومحبت کے لئے هوسکتی هے –

مذکوره ترتیب کے پیش نظر مختلف مراتب کو درج ذیل نام دئے جاسکتے هیں : خائفانه عبادت وبندگی ، تاجرانه عبادت و بندگی ، شرمسارانه عبادت وبندگی ، شاکرانه عبادت وبندگی اور محبانه وعاشقانه عبادت وبندگی – البته قابل ذکر بات هے که بعض اوقات ممکن هے یه مختلف محرکات کسی شخص میں ایک ساتھـ پائے جائیں-

٣- بندگی میں اخلاص کے لئے موانع :

اخلاص کی دنیا اور اسکے مراتب میں داخل هو نے کی راه میں کچھـ موانع اور رکاوٹیں پائی جاتی هیں که ذیل میں هم ان میں سے اهم رکاوٹوں کے بارے میں اشاره کرتے هیں ;

الف : ریاکاری

ب : دنیا پرستی

ج : شیطان

ریاکاری : عدم اخلاص کی سب سے بڑی رکاوٹ جس سے لوگ خدا کی بندگی کے دوران دوچار هوتے هیں ، وه ریاکاری اور دوسروں کی مرضی اور خوشحالی کو حاصل کر نا هے – انسان کی یه ریا کاری خودستائی ، شهرت طلبی اور ریاست طلبی کے لئے هوتی هے –

ریاکاری سے بچنے کا طریقه یه هے که ریاکار کو جاننا چاهئے که انسان کے لئے همیشه اور تمام لوگوں کی خوشنودی حاصل هو نا ممکن نهیں هے ، اس کے علاوه اسے همیشه روحی اضطراب اورذهنی پریشانیوں سے دوچار رهنا پڑتا هے ، اگر چه بالفرض اسے دوسروں کی خوشنودی حاصل بھی هو جائے ، سوچنا یه هے که یه دوسروں کی خوشنودی اسے کیا فائده پهنچا سکتی هے ، حقیقی نفع و نقصان خداوند متعال کے هاتھـ میں هے –

دنیا پرستی : دنیا سے وابستگی اس امر کا سبب بنتی هے که انسان کی پوری زندگی حتی ذات حق تعالی کی بندگی بھی دنیا پرستی کا شکار هو جائے-

اس رکاوٹ کو دور کر نے کا طریقه یه هے که دنیا اور انسان کی پهچان حاصل کی جائے ، انسان کی اکثر بد بختیاں ، مصیبتیں اور مشکلات اس نا پائیدار دنیا کو حاصل کر نے کے نتیجه میں پیدا هوتی هیں – اس کے علاوه انسان گونا گون ضرورتوں کا محتاج هے که دنیا ان سب کو پورا کر نے میں عاجز هے –

شیطان : یه شیطان هے جوانسان کے سامنے ریا ، دنیا اور هر برے کام کو محبوب اور خوبصورت انداز میں پیش کرتا هے[3]-

شیطان سے نجات پانے کا طریقه یه هے که انسان جان لے که شیطان ، حضرت آدم علیه السلام کے زوال کا باعث بنا هے اور شیطان کے کام کی برائیوں اور نقصانات کے بارے میں زیاده توجه رکھنی چاهئے-

٤- اخلاص کو حاصل کر نے کے طریقے [4]:

٤(١)- ایمان اور خداوند متعال کی ذات کے بارے میں معرفت کو تقویت بخشنا : خداوند متعال اور اس کی تمام لامحدود صفات خاص کر اس کی دوستی ، ستائش اور پرستش کی شائستگی سے مربوط صفات پر ایمان رکھنا ، هرقسم کے شرک ، کفر ونفاق کے لئے کوئی گنجائش باقی نهیں رکھتا هے اور خداوند متعال کی ذات کی اس کی صفات کے ساتھـ معرفت حاصل کر نا ، انسان میں خوف اور انکساری کو وجود میں لاتا هے تاکه ایسا نه هو که وه دنیوی واخروی عذاب سے دو چار هو یا خدا کی ذات اقدس کے دیدار سے محروم هو جائے اس کے نتیجه میں اس معرفت کے مراتب کے بناپر ، خوف و اخلاص کے کچھـ مراتب حاصل هوتے هیں –

٤(٢) – اخلاص کی قدر وقیمت کے بارے میں غور کر نا:

ادیان الهی کے بارے میں خدا کا فرمان [5]، خدا وند متعال کی طرف سے اپنے محبوب بندے کی مخفی نعمت[6]، پروردگار عالم کے دیدار کا سبب [7]، قیامت کے دن کے حساب سے نجات پانے کا وسیله[8] ، آخرت کے لامحدود اجر وثواب ملنے کا سبب [9]، اور انسان میں شیطان کا عدم تصرف ، اخلاص هے[10]-

٤(٣) – عدم اخلاص کے نقصانات پر عور کر نا :

ریاکاری اور عدم اخلاص کے بارے میں نقل کی گئی تمام روایتوں [11]سے معلوم هوتا هے که ریا اور عدم اخلاص ، ایک قسم کا کفر ، شرک ، نفاق ، خدا کی ذات سے نیرنگ ، خشم خدا کا سبب اور اعمال ، شفاعت اور دعا قبول نه هو نے کا سبب هے-

٤(٤)- بندگی میں ، ظاهر و باطن کی هم آهنگی :

یه هم آهنگی ایسی هونی چاهئے که دوسرے لوگ اس کی بندگی کی کیفیت پر اثر انداز نه هو سکیں –

٤(٥)- مکمل بندگی :

تمام واجبات میں خداوند متعال کی پیروی کرنا، محرمات کو ترک کر نا ، مستحبات انجام دینا ، مکروهات حتی مباحات کو انجام دینے سے اجتناب کر نا – نه یه که مثلاً نماز پڑھی جائے اور اس کے ساتھـ هی حسادت اور غیبت بھی کرتا هو اور اسی طرح دین کے تمام اعتقادی اور عملی امور میں ان امور کی رعایت کر نا مکمل بندگی شمار هوتی هے –

٤(٦) – بندگی میں عجز اور کمی کا احساس :

بنده کو بندگی و اخلاص کی حالت میں ،اپنے آپ کو اس سے عاجز تر جان لینا چاهئے که وه بندگی واخلاص کو بجا لاسکتا هے، اس لئے انبیاء واولیاء اخلاص وبندگی کے بلندترین درجه پر فائز هو نے کے باوجود راز ونیاز میں خدا کی شائسته بندگی انجام دینے میں خود کو عاجز سمجھتے تھے – لهذا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں : "میں نے تیری شائسته بندگی بجا نهیں لائی هے-[12]"

٤(٧) –دعا :

دعا، دنیوی اور معنوی مشکلات اور مصیبتوں کو حل کر نے کا ایک وسیله هے- انسان کی بعض بنیادی اور ابدی ضرورتیں ، دعا وبندگی کی راه کے علاوه حاصل نهیں هوتی هیں – بندگی میں اخلاص سے زیاده کونسی ضرورت اهم هے ؟، اس لئے امام سجاد علیه السلام خداوند متعال سے عاجزانه طور پر اخلاص وبندگی کی درخواست کرتے هوئے فر ماتے هیں : خدا وندا! ان تمام (اعمال ) کو ریا کار بندوں کی ریاکری سے خالص قرار دینا تاکه میں کسی کو تیرا شریک قرار نه دوں ، اور تیرے علاوه کسی کو اپنا مراد قرار نه دوں [13]"-



[1] - اخلاق ،عرفان اور تفسیر کی کتابوں میں، اخلاص کے لئے ، مختلف نظریات اور مراتب کے مطابق کچھـ تعریفیںبیان کی گئی هیں : مثلاً کتاب معراج السعادۃ ، ص٤٨٦: کیمیای سعادت ، ج٢، ص ٤٥٣: چهل حدیث ، امام خمینی ،ص٢٣٨: عروۃ الوثقی ، سید محمد کاظم طباطبائی ، ج١،ص٤٧٢ و المیزان مرحوم طباطبائی ، ذیل آیات ، سوره بقره ، ٢٦٤، سوره نساء ،٣٨و١٤٢، سوره انفال ،٤٧،وماعون ،٦-

[2] - اخلاص کے مراتب کی بحث کے بارے میں مزید معلو مات حاصل کر نے کے لئے ، ترجمه وشرح اصول کافی از مرحوم مصطفوی اور علامه سید مهدی طباطبائی کی "سیر وسلوک" پر مرحوم محمد حسینی تهران کا مقدمه وشرح ملاحظه هو-

[3] - " لازینن لهم فی الارض ---" سوری حجر / ٣٩ اور شیطان کے کام کے بارے میں دوسری آیات وروایات -

[4] - اخلاص حاصل کر نے کے طریقوں کو مذکوره کتابوں کے علاوه اخلاق کی کتابوں کا مطالعه کیاجاسکتا هے

[5] - سوره بینه ، ٥-

[6] - معراج السعادۃ ،حدیث قدسی ،ص٤٨٩-

[7] - ایضاً-

[8] -سوره صافات ،١٢٨-

[9] - سوره صافات ،٣٩- ٤٠-

[10] - سوره حجر ، ٤٠-

[11] - یه تمام روایات اخلاق کی کتابو، میں درج هوئی هیں-

[12] - " ماعبد ناک حق عبادتک "، بحار الانوار ، ج٦٨،ص٢٣-

[13] - " خلص ذلک کله من را ءالمراثین وسمعۃ المسمعین لا نشرک فیه احدا دونک ولا نبغی فیه مرادا سواک " ، صحیفه سجادیه ، دعای شماره ٤٤"

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا