اعلی درجے کی تلاش
کا
4967
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2011/01/19
 
سائٹ کے کوڈ fa4136 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 12008
سوال کا خلاصہ
غیر اسلامی بینکوں میں ڈیپازٹ کے عنوان سے کوئی رقم رکھنے کی صورت میں کیا اس کا منافع حاصل کرنا ، سود ھے ؟ اور کیا مذکوره بینک میں کام کرنا جائز ھے ؟
سوال
سلام علیکم ۔ ھندوستان جیسے ایک غیر اسلامی ملک میں بینک کے معاملات کے بارے میں راھنمائی چاھتا ھوں ، مھربانی کرکے دقیق طور پر اور تفصیل سے جواب دیجئے :
۱ ۔ اگر کوئی شخص کچھ پیسے بالفرض چار سال کے لئے بینک میں ڈیپازٹ کے طور پر رکھے اور بینک اس کے مقابلے میں منافع کے عنوان سے ایک رقم ( مثلاً ۱۰ فیصدی ) ادا کرتا ھو ، کیا یه اضافی رقم کا منافع سود حساب ھوتا ھے یا نھیں ؟
۲ ۔ تقریباً تمام لوگ اپنے پیسوں کو بینک میں جمع کراتے ھیں اور بینک اپنے گاھکوں کو کچھ منافع دیتا ھے ۔ اب اگر وه لوگ اس رقم کو ثابت صورت میں کئی برسوں تک بینک میں جمع کریں ، کیا اس رقم پر حاصل ھونے والے منافع کا حکم سود ھے یا نھیں ؟
۳ ۔ اگر کوئی شخص ، ایسے بینکوں میں کام کرتا ھو ، کیا اس کے لئے کوئی مشکل ھے ؟ کیا اس کا کوئی راه حل ھے ؟
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
تبصرے کی تعداد 0
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا