اعلی درجے کی تلاش
کا
2700
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2013/05/27
سوال کا خلاصہ
حائض عورت کو کونسے کام ترک کرنے چاہئے؟
سوال
کیا عورت حیض کے دوران سجدہ میں جاکر ذکر پڑھ سکتی ہے؟
ایک مختصر
  عورت حیض کی حالت میں سجدہ میں جاکر ذکر پڑھ سکتی ہے۔ بلکہ مستحب ہے کہ عورت، حیض کی حالت میں نماز کے وقت خون کو صاف کرکے روئی بدل کر وضو کرکے اور اگر وضو نہ کرسکتی ھوتو تیمم کرکے نماز کی جگہ پر قبلہ رخ بیٹھ کر ذکر، دعا اور صلوات پڑھنے میں مشغول رہے۔
تفصیلی جوابات
  حیض والی عورت سجدہ بجا لاکر ذکر پڑھ سکتی ہے۔ حیض کی حالت میں عورت کے لئے  سجدہ کرنا حرام ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے یہ بھی مستحب ہے کہ حیض کی حالت میں خون کو صاف کرکے روئی بدل کر وضو کرکے اور اگر وضو نہ کرسکتی ھوتو تیمم کرکے نماز کی جگہ پر قبلہ رخ بیٹھ کر ذکر، دعا اور صلوات پڑھنے میں مشغول رہے۔[1]
ضمنا، جوچیزیں حائض عورت کے لئے حرام ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:
۱۔ نماز کے مانند عبادتیں جن کے لئے وضو یا غسل یا تیمم کرنا ضروری ھو، لیکن جن عبادتوں کے لئے وضو یا غسل یا تیمم کرنا ضروری نہیں ہے، ان کو بجالانے میں کوئی حرج نہیں ہے، مثال کے طور پر نماز جنازہ۔ ۔ ۔ ۔
۲۔ وہ تمام چیزیں جو جنب کے لئے حرام ہیں، حسب ذیل ہیں:
اول: اپنے بدن کے کسی حصہ کو قرآن مجید کی سطروں یا خدا کے نام سے مس کرنا اور پیغمبروں (ع) اور اماموں کے ناموں سے مس کرنا بھی احتیاط واجب کے طور پر خدا کے نام کے حکم کے دائرے میں آتا ہے۔
دوم: مسجد الحرام اور مسجد النبی (ص) میں داخل ھونا، اگر چہ ایک دروازے سے داخل ھوکر دوسرے دروازے سے باہر نکلیں۔
سوم: دوسری مسجدوں میں رکنا۔ لیکن اگر ایک دروازہ سے داخل ھوکر دوسرے دروازہ سے باہر نکلیں یا کسی چیز کو مسجد سے اٹھانے کے لئے داخل ھوں، تو کوئی حرج نہیں ہے اور احتیاط واجب ہے کہ ائمہ اطہار (علیہم السلام) کے حرموں میں بھی نہ رکیں۔
چہارم: مسجد میں کسی چیز کو رکھنا۔
پنجم: واجب سجدہ والے سوروں میں سے کسی سورہ کو پڑھنا(النجم، اقراء، الم تنزیل اور حم سجدہ) اور مذکورہ چار سوروں میں سے ایک حرف بھی پڑھنا حرام ہے۔[2]
۳۔ فرج [شرم گاہ] میں جماع کرنا، مرد اورعورت دونوں کے لئے حرام ہے، اگر چہ مرد کا آلہ تناسل ختنہ گاہ کی مقدار میں فرج [شرم گاہ]میں داخل ھو جائے اور منی بھی نہ نکلے۔ بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ ختنہ گاہ سے کم تر مقدار میں بھی داخل نہ ھو اور حائض عورت کی دبر (پشت سے) وطی کرنا شدیدا مکروہ ہے۔[3]
 
 

[1] ۔ . خمینی، سید روح الله موسوی، توضیح المسائل (محشّی – امام خمینی)، ج 1، ص 269، محقق/مصحح: سید محمد حسین بنی هاشمی خمینی، دفتر انتشارات اسلامی، قم،طبع هشتم، 1424ق.
[2] ۔ توضیح المسائل (محشّی – امام خمینی)، ج 1، ص 212؛ لیکن بعض فقہا سجدہ والے سوروں میں صرف سجدہ کی آیت کو پڑھنا حرام جانتے ہیں اور ان سوروں کی دوسری آیات کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ جیسے ناصر مکارم شیرازی: سجدہ والے سوروں میں سے سجدہ والی کسی آیت کو پڑھنا حرام ہے لیکن ان کی دوسری آیات کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ توضیح المسائل (محشی ۔ امام خمینی)، ج ۱، ص۲۱۳۔
[3] ۔ایضا، ص ۲۶۰؛لیکن مسئلہ کے اس حصہ کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں ، ہر ایک کو اپنے مرجع تقلید کے فتوی کے مطابق عمل کرنا چاہئیے۔متن میں ذکر کیا گیا نظریہ امام خمینی(رہ) کا ہے اس لئے ہماری اسی سائٹ کا عنوان" پشت سے وطی کرنے کا حکم" " حکم نزدیکی از پشت" ،سوال ۱۰۱۷ سائٹ : ۱۰۷۵ را مطالعہ کیا جائے۔
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا

روابط