کا
4132
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2010/03/10
سوال کا خلاصہ
اس حدیث کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے کہ:" اگر ملائکہ آپس میں جھگڑا کریں گے، تو جبرئیل علی{ع} کے پاس اتر کر آپ {ع} کو آسمان پر لے جائیں گے تاکہ ملائکہ کے درمیان فیصلہ کریں؟
سوال
شیعوں کی احادیث میں نقل کیا گیا ہے کہ: "اگر ملائکہ آپس میں جھگڑا کریں گے، تو جبرئیل علی{ع} کے پاس اتر کر آپ {ع} کو آسمان پر لے جائیں گے تاکہ ملائکہ کے درمیان فیصلہ کریں؟ {الاختصاص ص ۲۱۳ شیخ مفید} اس حدیث کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
ایک مختصر

دینی تعلیمات کی بناپر، ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ فرشتے، اپنے فرائض کے سلسلہ میں کسی قسم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں-

خداوند متعال فرشتوں کی توصیف میں فرماتا ہے:" وہ خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں اور ان کے بارے میں پابند ہیں، ظاہر ہے کہ اس بنا پر ان کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ھونا چاہئے-

اس بنا پر فرشتوں کے درمیان بحث و گفتگو اور سوال و جواب ہے لیکن لڑائی جھگڑا نہیں ہے-

لیکن جو روایت سوال میں پیش کی گئی ہے، دلالت اور سند کے لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے – کیونکہ ہماری رجالی کتابوں میں ان راویوں احمد بن عبداللہ، عبداللہ بن محمد عیسی، حماد بن سلمۃ ،اعمش اور زیاد بن وہب میں سے بہت سے افراد کو موثق نہیں جانا گیا ہے اور ان کی تائید نہیں کی گئی ہے اور یہ حدیث بھی شیعوں کی کسی معتبر کتاب، من جملہ کتب اربعہ میں سے کسی ایک میں نہیں آئی ہے اور صرف شیخ مفید کی کتاب " اختصاص" اور علامہ مجلسی کی بحار الانوار میں آئی ہے اس کے علاوہ کہ لفظ " تشاجر" {جو اس حدیث میں فرشتوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے} اکثر لڑائی جھگڑےَ کے معنی میں استعمال ھوتا ہے اور ہم نے کہا کہ فرشتوں کے بارے میں یہ مسئلہ صحیح نہیں ہے-

نتیجہ یہ کہ علم رجال اور حدیث کے قوانین کی بنا پر مذکورہ روایت پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے-

 

تفصیلی جوابات

سوال دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے اور ہم اس کا دقیق جواب دینے کے لئے اس کا تجزیہ کرکے اس کو مزید کئی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

۱- چونکہ فرشتے معصوم ہیں اور نفسانی خواہشات سے عاری ہیں، اس لئے کیا ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ھونا ممکن ہے؟   دینی تعلیمات کی بناپر، ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ فرشتے، اپنے فرائض کے سلسلہ میں کسی قسم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں-

خداوند متعال فرشتوں کی توصیف میں فرماتا ہے:" وہ خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں [1]اور اس کے پابند ہیں[2]

البتہ قابل توجہ بات ہے کہ فرشتوں کی اطاعت اور عدم نافرمانی ایک قسم کی تکوینی اطاعت ہے نہ کہ تشریعی، اور تکوینی اطاعت ہمیشہ موجود ھوتی ہےاور بہ الفاظ دیگر فرشتے ایسے خلق کئے گئے ہیں کہ الہی فرمان کو اپنے میل و رغبت کے ساتھ ساتھ پورے اختیار سے بجا لاتے ہیں-[3] فرشتوں کی عصمت کے بارے میں مزید آگاہی حاصل کرنے کے لئے آپ ہماری اسی سائٹ کے سوال:  ۱۷۴۰{ سائٹ: ۲۱۳۹} عنوان" عصمت فرشتگان" کا مطالعہ کرسکتے ہیں-

اس کے علاوہ فرشتوں کی ذمہ داریاں اور ان کا فریضہ ہمارا جیسا نہیں ہے- - -وہ پاک و نورانی ذات کے مالک ھوتے ہیں اور خدا کے ارادہ کے بغیر ارادہ نہیں کرتے ہیں اور کسی کام کو انجام نہیں دیتے ہیں مگر خدا وند متعال نے اس کی ماموریت دی ھو، اس کے علاوہ ارشاد الہی ہے: " بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ"[4]  وہ کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں" اسی وجہ سے فرشتوں کے عالم میں نہ کوئی جزا ہے اور نہ اجر، نہ کوئی ثواب ہے اور نہ عذاب اور حقیقت میں فرشتے تکوینی تکلیف کو بجا لانے کے مکلف ہیں نہ کہ امر و نہی تشریعی کے اور ان کی تکوینی ذمہ داریاں بھی ان کے درجوں کے مطابق مختلف ہیں-[5] ظاہر ہے کہ اسی بنا پر فرشتوں کا آپس میں اختلاف نہیں ھونا چاہئے-

۲-کیا سلیقہ اور نظریہ کے لحاظ سے فرشتوں کے درمیان اختلاف ھونا ممکن ہے؟

مذکورہ بالا مطالب کے پیش نظر، بیشک فرشتوں کے درمیان جنگ اور لڑائی کے عنوان سے اختلافات نہیں پائے جاتے ہیں، منتہی یہ کہ شائد ان کے درمیان سلیقہ کے لحاظ سے اختلافات کو قبول کیا جائے-

خداوند متعال قرآن مجید میں پیغمبر اسلام {ص} کی طرف سے فرماتا ہے:" مجھے کیا علم ھوتا کہ عالم بالا { اور فرشتوں کے درمیان} میں کیا { مخاصمہ} بحث ھورہی ہے- [6]

ظاہر ہے کہ آیہ شریفہ میں مخاصمہ کے بارے میں احادیث سے[7] معلوم ھوتا ہے کہ فرشتوں کے درمیان گفتگو اور بحث و مباحثہ اور ان کے درمیان سوال و جواب مراد ہے نہ کہ لڑائی جھگڑا اور رسہ کشی[8] اور یہ ہمارے دعوی کا ثبوت ہے-[9]

۳-چونکہ فرشتے روح ہیں اور انسان جسم {اور روح}، یہ گفتگو کیسے متحقق ھوسکتی ہے؟

دینی تعلیمات اور قرآن مجید کے مطابق اگر چہ فرشتے روح ہیں لیکن خدا کی اجازت سے یہ طاقت رکھتے ہیں کہ مختلف شکلوں، حتی کہ انسان کی صورت میں نمودار ھو جائیں-

مثال کے طور پر:

الف-اہل سنت اور شیعوں کی حدیث کی کتابوں اور تفاسیر میں درج کی گئی متعدد روایتوں کے مطابق جبرئیل امین " دحیہ کلبی" کی صورت میں پیغمبر اکرم {ص} کی خدمت میں حاضر ھوئے تھے-[10]

ب-جو فرشتے امتحان لینےکے لئے حضرت داود پر نازل ھوئے، وہ دوانسانوں کی شکل میں تھے اور بظاہر اس طرح اظہار کرتے تھے کہ ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں اور آمادہ ہیں کہ حضرت داود ان کے درمیان فیصلہ کریں-[11]

ج-جو فرشتے حضرت ابراھیم{ع} اور حضرت لوط {ع} پر نازل ھوئے، وہ مہمانوں کے عنوان سے تھے-[12]

د-"ہاروت" و " ماروت" دو ایسے فرشتے تھے جو سحر کو باطل کرنے کے لئے لوگوں کو سحر سکھانے کی غرض سے نازل ھوئے تھے-[13]

اس بنا پر، مذکورہ مقدمات کے پیش نطر بعید نہیں ہے کہ انسان فرشتوں کے {بالفرض} اختلافات کو دور کرنے کے لئے ان کے درمیان جاکر ان کے اختلافات کو دور کرے تاکہ جس طرح ابتدائے خلقت میں ان کو { فرشتوں کو} مخلوقات کے اسماء{ واسرار}  سے واقف کیا،[14] ایک دوسرا انسان کامل ان کے درمیان جاکر قاضی کے لباس میں انھیں سکھائے اور ان کے درمیان قضاوت { فیصلہ} کرے-

لیکن یہ سب مسئلہ کے ممکن ھونے کی حد میں ہے، لیکن کیا ایسا اتفاق رونما ھوا ہے یا نہیں، ہمارے پاس اس کی کوئی محکم دلیل موجود نہیں ہے-

دلالت و سند کے لحاظ سے حدیث کی تحقیق:

احمد بن عبداللہ نے عبداللہ بن محمد عیسی سے اور اس نے جماد بن سلمہ سے اس نے اعمش سے اور اس نے کہا کہ زیاد بن وہب نے مجھے خبر دی ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں فاطمہ{ع} کی خدمت میں پہنچا، عرض کی آپ کے شوہر کہاں ہیں؟ فرمایا : جبرئیل انھیں آسمان کی طرف لے گئے- میں نے عرض کی: کس لئے؟ فرمایا: کچھ فرشتوں نے ایک مسئلہ پر آپس میں لڑائی کی تھی اور انھوں نے خداوند متعال سے انسانوں میں سے کسی ایک کو فیصلہ کرنے والا مقرر کرنے کی درخواست کی تھی، خدا وند متعال نے ان سے فرمایا کہ: تم خود انتخاب کرو- انھوں نے علی بن ابیطالب کو منتخب کیا-[15]

اس حدیث میں سند اور دلیل کے لحاظ سے نقائص ہیں-

دلیل کے لحاظ سے:

لفظ " تشاجر" { جو فرشتوں کے بارے میں حدیث میں ذکر کیا گیا ہے} اکثر لڑائی جھگڑے کے لئے استعمال ھوتا ہے[16] اور ہم نے اس سے قبل بتایا ہے کہ فرشتون کے بارے میں یہ مسئلہ صحیح نہیں ہے، اس لحاظ سے حدیث اپنے دعوی کے بارے میں کوئی دلیل نہیں رکھتی ہے بلکہ قابل شک ہے اور اعتبار کے لحاظ سے بھی ساقط ہے-

سند کے لحاظ سے:

اولا: ہماری علم رجال کی کتابوں میں، مذکورہ روایت کی سند کاسلسلہ نہ صرف ذکر نہیں ھوا ہے بلکہ اس کے اکثر راویوں کی توثیق و تائید نہیں کی گئی ہے-[17]

ثانیا: یہ حدیث ہماری احادیث کی کسی معتبر کتاب، من جملہ کتب اربعہ میں سے کسی ایک میں بھی نہیں آئی ہے بلکہ صرف شیخ مفید کی " اختصاص" اور علامہ مجلسی کی بحار الانوار میں نقل کی گئی ہے اور اس میں بھی اسے کتاب اختصاص سے نقل کیا گیا ہے-

نتیجہ کے طور پر علم رجال اور احادیث کے قوانین کے مطابق مذکورہ احادیث کے اعتبار کا حکم نہیں کیا جاسکتا ہے-

 

 


[1] تحریم، 6.

[2] فخرالدين رازى، ابوعبدالله محمد بن عمر، مفاتيح الغيب، ج‏30، ص: 573، ناشر: دار احياء التراث العربى‏،بيروت‏،طبع سوم‏، 1420 ھ‏.

[3] مکارم شیرازی، ناصر، تفسير نمونه، ج ‏24، ص 288.

[4] انبیا، 27.

[5] طباطبایی، محمد حسین، ترجمه الميزان، موسوی همدانی، سيد محمد باقر، ج ‏19، ص 561 و 562، ناشر: دفتر انتشارات اسلامى جامعه‏ى مدرسين حوزه علميه قم‏، قم‏، طبع پنجم‏ ، 1374 ھ ش‏.

[6] سوره صاد، 69.

[7] مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار، ج 18، ص 375، مؤسسۀ الوفاء، بیروت لبنان، 1404 هـ ق.پيامبر (ص)  نے اپنے ایک صحابی سے پوچھا : کیا جانتے ھو کہ فرشتے عالم بالا میں کسی سلسلہ میں بحث کرتے ہیں؟؛ عرض کی: نہیں، فرمایا : وہ کفارات { جو کام گناھوں کی تلافی کرتے ہیں} اور درجات کے بارے میں بحث کرتے ہیں- لیکن بانی پر وضو کا کفارہ موسم سرما میں وضو کرنا اور نماز جماعت کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے اور لیکن درجات، بہت سلام کرنے اور کھانے کھلانے اور لوگوں کے آرام کے وقت نماز شب پڑھنے میں ہے-

[8] مکارم شیرازی، ناصر، تفسير نمونه، ج‏19، ص: 333

[9] لیکن یہاں پر بھی بہت لوگوں کا اعتقاد ہےکہ فرشتوں کی گفتگو سے مراد خدا سے گفتگو کرنا ہے نہ کہ آپس میں – مزید آگاہی کے لئے اس آیت کے ذیل میں تفسیر ملاحظہ ھو-

[9] کلینی، محمد بن یعقوب، كافي، ج ‏2، ص 587، دار الكتب الإسلامية تهران، 1365 هـ ش؛ صحيح مسلم شمارۀ (2451) http://www.al-islam.com، مکتبه شامله سایت؛ تفسیر ابن کثیر، ج 6، ص 406، أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي الدمشقي، تفسير القرآن العظيم، ناشر : دار طيبة للنشر والتوزيع، طبع دوم، 1420هـ 1999 م.

[9] سوره صاد، 24.

[10] هود، 62 – 83.

[11] بقره،  ۱۰۲

[12] بقرہ ۳۳، فرمایا اَ آدم؛ ان {فرشتوں کو} مخلوقات کے نام { اسرار } سے آگاہ کرنا-

[13] شيخ مفيد، الاختصاص، ص 213، انتشارات كنگره جهانى شيخ مفيد قم، 1413 هـ

[14] طریحی، مجمع‏البحرين، ج 3، ص  343، ناشر: كتابفروشى مرتضوى، تهران‏،طبع سوم‏ ، 1375 ھ ش‏.

[15]   علم رجال کی کتابوں میں  اسم" أحمد بن عبد الله، عبد الله بن محمد عبسي، ، حماد بن سلمة، اعمش و زیاد بن وهب " و ... وغیرہ ملاحظ ھو-

 

 

 

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا