اعلی درجے کی تلاش
کا
3942
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2009/09/14
سوال کا خلاصہ
کیا نا محرم کو چھونے اور آغوش میں لینے کی کوئی شرعی سزا ہے؟
سوال
اگر کوئی مرد کسی نا محرم لیکن با پردہ لڑکی کو گود میں لے کر اس کے ہاتھ کو چھولے، تو ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا یہ لڑکی زنا کے مانند کام کی مرتکب ھوئی ہے؟ کیا اس کے لئے کوئی شرعی سزا مقرر کی گئی ہے؟ اور یہ سزا کیا ہے؟ اگر کوئی اس ماجرا کا عینی شاہد نہ ھو تو کیا ان دونوں کو حاکم شرع کے پاس جاکر اقبال جرم کرنا چاہئیے تاکہ سزا کا نفاذ عمل میں لایا جائے؟
ایک مختصر
نا محرم، مرد اور عورت کو ایک دوسرے سے ہر قسم کی جنسی لذت حاصل کرنے کے لئے استفادہ کرنا ﴿ حتی شہوت کے ساتھ نگاہ کرنا﴾ حرام ہے۔ اسی لئے اسلام کے مطابق نا محرم مرد اور عورت کا ایک خلوت جگہ پر ھونا جائز نہیں ہے۔[1]  تاکہ گناہ اور حرام کام انجام دینے کا زمینہ فراہم نہ ھو جائے۔ اس بنا پر ایک لڑکی یا عورت کو پردے کی حالت میں گود میں لینا اور اس کے ہاتھ اور بدن کو جنسی لذت کی غرض سے چھونا حرام ہے لیکن اس کی کوئی شرعی سزا نہیں ہے ,البتہ حاکم شرع ایسا کام انجام دینے والوں کو تعزیر و تنبیہ ﴿ شرعی سزا سے کم تر سزا یا حبس و زندان وغیرہ﴾ کرسکتا ہے۔ اور اس طرح اذیت و آزار ھونے والی عورت یا لڑکی متجاوز کے خلاف شکایت کرسکتی ہے۔ لیکن اگر نادانی، نا آگاہی، جہالت اور نفسانی خواہشات کے غلبہ کی وجہ سے طرفین ایسے کام کے مرتکب ھوئےھوں اور خداوند متعال کے علاوہ ان کا کوئی گواہ نہ ھو تو انھیں حاکم شرع کے پاس جاکر اقبال جرم نہیں کرنا چاہئیے اور انھیں اسرار فاش کرنے اور اپنے آپ کو ذلیل و رسوا کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اتنا ہی کافی ہے کہ اس برے کام سے پشیمان ھوکر خدائے مہربانی کی بارگاہ میں توبہ کریں۔ انسان کو ہمیشہ خداوند متعال کی طرف سے عفو و بخشش اور مہربانی کی امید رکھنی چاہئیے، کیونکہ خداوند متعال توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے اور توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
 

[1]  توضیح المسائل ﴿ المحشی للامام الخمینی﴾، ج ١ ، ص: ۴۹۷، مسالہ ۸۸۹۔
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا