کا
3307
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2012/05/06
سوال کا خلاصہ
رمضان المبارک کے روزوں کو عمداً ترک کرنے کی سزا کیا ہے؟
سوال
مکتب اہل بیت{ع} کے مطابق فرمائیے کہ: جو شخص روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے، اس کے لیے کون سی سزا دی جاتی ہے؟ اگر کسی شخص کے لیے روزہ رکھنا سخت اور طاقت فرسا ہو یا دن لمبے ہونے یا کار ومطالعہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے وہ روزہ نہ رکھ سکتا ہو، کیا اس صورت میں وہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے؟ مہربانی کر کے اپنے فقہی نظریہ کو مذکورہ مسائل کے پیش نظر روایات کے مطابق بیان فرمائیے۔
ایک مختصر

جس شخص کے لیے رمضان المبارک میں روزہ رکھنا واجب ہے {تمام شرائط رکھتا ہو} صرف اس لیے کہ وہ روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے یا ارادہ رکھتا ہے لیکن روزہ نہ رکھے، تو اسلام کے مطابق اس کے لیے تب تک کوئی سزا نہیں ہے جب تک وہ اپنے اس قصد و ارادہ کو عملی جامہ پہنائے اور عملاً اپنے واجب روزہ کو ترک کرے، یا اپنے روزہ کو باطل کرے، اس صورت میں عمداً ترک کیے ہوئے روزہ کے ہر دن کے لیے اس دن کی قضا کے علاوہ کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ عمداً روزہ کو ترک کرنے یا رمضان المبارک کے روزہ کو عمداً توڑنے کا کفارہ درج ذیل تین موارد میں سے ایک ہے:

۱۔ ساٹھ دن روزہ رکھنا { کہ اس کے اکتیس دن پے در پے ہونے چاہئیں}۔

۲۔ ایک غلام کو آزاد کرنا {آج کل یہ ناممکن ہے ، کیونکہ غلام اور بندہ کا وجود نہیں ہے}

۳۔ ہر دن کے لیے ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا۔ اگر ان سب میں سے کسی کام کو انجام دینے کی طاقت نہیں رکھتا ہو، تو اسے صرف بارگاہ الہٰی میں استغفار کرنا چاہئیے۔

سوال کے دوسرے حصہ کا جواب حاصل کرنے کے لیے عنوان: "ضعف بدن و روزہ گرفتن"، سوال: 11753{سائٹ: 11648} ملاحظہ ہو[1]۔

 


[1] توضیح المسائل {المحشی للامام خمینی} ج۱، ص ۹۲۸، مسئلہ :1660

 

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا