اعلی درجے کی تلاش
کا
2451
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2015/02/12
سوال کا خلاصہ
کیا اسلامی منابع میں بھی یہودیوں کی کتاب مقدس کے مانند حضرت داؤد[ع] پر ایک بے گناہ انسان کے قتل اور زنائے محصنہ کی تہمت لگائی گئی ہے ؟
سوال
کہا جاتاہے کہ حضرت سلیمان[ع] ایک عورت کو دیکھنے کے بعد اس کے عاشق ہوئے ، لیکن وہ عورت صاحب شوہر تھی ،حضرت سلیمان[ع] نے اس کے شوہر کو جہاد پر بھیج دیا تاکہ شہید ہو جائے اور اس عورت کے ساتھ ازدواج کرے۔۔ مہر بانی کرکے فرمائیے کہ کیا یہ داستان سچ ہے یا جھوٹ؟
ایک مختصر
کتاب مقدس میں ایک داستان نقل کی گئی ہے،جس میں حضرت داود[ع]کے بارے میں نا روا نسبتیں دی گئی ہیں،جن میں شہوانی نظر ڈالنے،زنائے محصنہ اورایک بے گناہ انسان کو قتل کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
بعض اسلامی منابع میں بھی کسی حد تک اس قسم کی اسرائیلیات والی روایات سے متاثر ہوکراس جھوٹی داستان کے ایک حصہ کونقل کیا گیا ہے۔ لیکن بہت سے مسلمان ، من جملہ مکتب تشیّع کے پیرو اپنے ائمہ[ع]کی پیروی کرتے ہوئے اس قسم کی نا روا نسبتوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔
 
تفصیلی جوابات
جو کچھ سوال میں حضرت سلیمان نبی[ع] کے بارے میں نقل کیا گیا ہے، حقیقت میں اس کا سر چشمہ کتاب مقدس میں حضرت داؤد[ع]پر لگائی ناروا نسبت ہے۔
کتاب مقدس میں حضرت داؤد[ع] کی داستان:
ابتداء میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہم مندرجہ ذیل مطالب کو قبول نہیں کرتے ہیں،لیکن اس داستان کو تجزیہ کرنے کے لئے ہم کتاب مقدس کے متن کومن وعن نقل کرنے کےلئے مجبور ہیں۔ کتاب مقدس میں حضرت داؤد[ع] کی داستان کودو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱ ۔ عاشق ہونے کی داستان،زنائے محسنہ کا مرتکب ہونا اور جس عورت کے عاشق ہوئے تھے اس کے شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانا:
"ایک دن عصر کے وقت داود نیند سے بیدار ہوئے اور ہوا خواری کے لئے اپنے محل کی چھت پر گئے،وہاں پر ٹہلتے ہوئے اچانک ان کی نظر ایک خوبصورت عورت پر پڑی،جو نہا رہی تھی۔ داؤد نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ معلوم کرے کہ وہ عورت کون ہے؟ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اس عورت کا نام بتشیع تھا،جوالعیام کی بیٹی اور اوریاحیتی کی بیوی ہے۔ اس کے بعد داؤد نے کئی افراد کوبتشیع کے پاس بھیجا تاکہ اسے ان کے پاس لے آئیں۔ جب بتشیع داؤد کے پاس آگئی،داؤد نے اس کے ساتھ ہمبستری کی۔ اس کے بعد بتشیع نے اپنے آپ کو پانی سے پاک کیا اور اپنے گھر گئی۔ جب بتشیع کو معلوم ہواکہ وہ حاملہ ہوئی ہے، اس نے ایک پیغام کے ذریعہ داؤد کو اس کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس کے بعد داؤد نے یوآب[اپنی فوج کے کمانڈر]کو یہ پیغان بھیجا :"اوریائے حیتی کو میرے پاس بھیجنا "۔ جب اوریا حاضر ہوا توداؤد  نے اس سے یوآب اور اس کے سپاہیوں اور جنگ کے حالات  کے بارے میں پو چھا۔ اور اس کے بعد اس سے کہا:آپ اپنے گھر جانا۔ اوریا کے وہاں سے جانے کے بعد داؤد نے کچھ تحفے بھی اس کے لئے بھیجے۔ لیکن اوریا اپنے گھر نہیں گیا بلکہ اس نے کاخ سلطنتی کے دروازے پر موجود محافظوں کے پاس رات گزاری۔ جب داؤد نے سنا، اوریا کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا:تمھیں کیا ہوا ہے؟ تم کیوں اتنی مدت تک اپنے گھرسے دور رہنے کے بعد کل رات اپنے گھر نہیں گیا؟ اوریا نے جواب میں کہا: صندوق عہد خداوند، سپاہ اسرائیل یہودا اور میرا کمانڈربوآب اور ان کے افسر صحرا میں کیمپ لگائے ھوئے ہیں، کیا اس حالت میں میرے لئے روا ہے کہ میں اپنے گھر جاکر اپنی بیوی سے عیش و عشرت میں رات گزاروں اور اس کے ساتھ ہم بستری کروں؟ آپ کی جان کی قسم میں یہ کام ہر گز نہیں کروں گا۔ داؤد نے کہا: بہت اچھا، پس آج رات بھی یہیں پر رہنا اور کل میدان کا ر زار کی طرف جانا۔ اس کے بعد اوریا اس دن اور اگلے دن بھی یورا شلم میں رہا۔ داؤد نے اسے شام کے کھانے پر دعوت دیدی اور اسے مست و مدہوش کیا۔ اس حالت میں اوریا اس رات کو بھی اپنے گھر نہیں گیا۔ بلکہ شاہی محل کے دروازے پر رات گزاری۔
آخر کار، دوسرے دن صبح کو داؤد نے یوآب کے لئے ایک خط لکھا اور اس خط کواوریا کے ہاتھ اسے بھیجا۔ اس خط میں داؤدنے یوآب کو حکم دیا تھا کی جب جنگ شدید تر ھوجائے، تو اوریا کو اگلے مورچوں پر بھیجنا اور اسے قتل ھونے تک نہ چھوڑے۔ اس کے بعد جب
یو آب دشمن کے شہر کو محاصرہ کرنے کی حالت میں تھا، تو اوریا کو اس جگہ پر بھیجا کہ جانتا تھا کہ وہاں پر دشمن کے قوی سپاہی لڑ رہے ہیں شہر کے لوگوں نے یوآب کے ہمراہ جنگ کی اور اس کے نتیجہ میں اوریا اور کئی دوسرے سپاہی قتل کئے گئے۔ ۔ ۔ ۔جب بتشیع نے سنا کہ اس کا شوہر مارا گیا ہے، تو وہ عزادار ھوئی۔ سوگواری کے ایام تمام ھو نے کے بعد داؤد نے بتشیع کو اپنے محل میں لایا اور وہ داؤد کی بیویوں میں شامل ھوئی۔ اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ لیکن داؤد کا یہ کام خداوند متعال کو پسند نہیں تھا"[1]
۲۔ لیکن یہ داستان یہیں پر ختم نہیں ھوتی ہے، بلکہ اس سلسلہ میں خداوند متعال کا برتاؤ اور سزا بھی دلچسپ ہے:
" لہذا خداوند متعال نے پیغمبر(ناثان) کو داؤد کے پاس بھیجا اور اس نے داؤد کے پاس آکر کہا: ایک شہر میں دو آدمی زندگی کررہے تھے، ان میں سے ایک فقیر اور دوسرا دولتمند تھا۔ دولتمند کے پاس بہت سی گائے اور بھیڑ تھے اور فقیر کے پاس ایک بھیڑ کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اور اسے بڑی سختی سے پال رہا تھا۔ اسی حالت میں دولتمند شخص کے ہاں ایک مہمان آگیااھاھاھاھاھاھا  اس نے مہمان کے لئے ایک بھیڑ ذبح کرنے سے اجتناب کیا بلکہ اس فقیر کے ایک بھیڑ کو ذبح کرکے اپنے مہمان کے لئے کھانا تیار کیا۔ داؤد یہ سننے کے بعد برہم ھوا اور نا ثان سے مخاطب ھوکر کہا: خدا تو زندہ ہے،  اس میں کیا ہے کہ وہ لالچی مرد قتل کیا جائے،یہ کام انجام دینا چاہئے اور ایک بھیڑ کے بجائے اس دولتمند کے چار بھیڑ اس فقیر کو دینے چاہئیے، کیونکہ اس دولتمند نے اس فقیر پر رحم نہیں کیا ہے اور اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا ہے۔ ناثان  نے داؤد سے کہا: اتفاق سے وہ مرد خود آپ ھو اور خدا وند متعیڑال تجھے عذاب کررہا ہے اور فرماتا ہے: ایک ایسی بلا تیرے گھر پر مسلط کروں گا اور تمھاری بیویوں کو تم سے چھین کر ان کے رشتہ داروں کے حوالہ کردوں گا تاکہ دن دھاڑے بنی اسرائیل کے سامنے ان سے ہم بستر ھوجائیں، اور میں تیرے ساتھ ایسا برتاؤ کروں گا، جیسا تم نے اوریا اور اس کی بیوی کے ساتھ کیا ہے۔ داؤد نے ناثان سے کہا: میں خداوند متعال سے اس خطا کے لئے عذر خواہی کرتا ھوں۔ ناثان نے کہا: خداوندمتعال نے بھی تیری اس خطا کے بارے میں چشم پوشی کی ہے اور تم اس سزا سے نہیں مرجاؤ گے، لیکن چونکہ تم نے اس کام سے خدا کے لئے کچھ دشمن بنائے ہیں جو رب کی شناخت میں زبان کھولتے ہیں، اس لئے، اوریا سے جو تیرا بیٹا ھوا ہے وہ مر جائے گا۔ ۔ ۔۔ پس خدا وند متعال نے اس بیٹے کو مریض کیا اور سات دن کے بعد فوت ھوا اور اس کے بعد اوریا کی بیوی نے داؤد کے لئے سلیمان کو جنم دیا۔"[2]
اسلامی منابع میں داؤد (ع)کی داستان
کتاب مقداس میں موجود داستان کے بارے میں اسلامی روایتیں مختلف ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی حضرت داؤد[ع] کے زنائے محصنہ کے مرتکب ھونے اور خدا کی طرف سے اس گناہ کے لئے سرزنش کا ذکر نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ایک آیہ شریفہ میں حضرت دا ؤد (ع) کے ایک فیصلہ کو بیان کیا گیا ہے:
"اور کیا آپ کے پاس ان جھگڑا کرنے والوں کی خبر آئی ہے جو محراب کی دیوار پھاند کر آگئے تھے کہ جب وہ داؤد کے سامنے حاضر ھوئے تو انہوں نے خوف محصوص کیا اور ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دوفریق ہیں جس میں ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے، آپ حق کے ساتھ فیصلہ کردیں اور نا انصافی نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستہ کی ھدایت کر دیں۔ یہ ہمارا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے، یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کردے اور اس بات میں سختی سے کام لیتا ہے۔ داؤد نے کہا کہ اس نے تمہاری دنبی کا سوال کرکے تم پر ظلم کیا ہے اور بہت سے شرکاء ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبان ایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے، لہذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے تو ہم نے اس بات کو معاف کردیا اور ہمارے نزدیک ان کے لئے تقرب اور بہترین بازگشت ہے" [3]
یہ آیات، کتاب مقدس سے نقل کی گئی داستان کے دوسرے حصہ کے مشابہ ہیں، جس میں ایک دوسرے پیغمبر کے ذریعہ داؤد(ع) کی راہنمائی کی گئی ہے۔
اب ہم اسلامی منابع میں موجود مطالب کی جانچ کرتے ہیں:
۱۔ قرآن مجید اور کتاب مقدس کے دوسرے حصہ کے درمیان شباہت اس امر کا سبب بنی ہے کہ اسلامی تاریخ کی بعض کتابوں میں بھی پوری داستان کو قطعی طور پر فرض کرکے کتاب مقدس کی داستان کےپہلے حصہ کو بھی معمولی تبدیلیوں کے ساتھ داؤد کی داستان میں نقل کیا گیا ہے:
"البتہ اس میں تبدیلیاں اگر چہ بظاہر جزئی ہیں، لیکن حقیقت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔[4] اسلامی روایتوں کا کتاب مقدس کے متن سے تفاوت اس میں ہے کہ اسلامی روایتوں میں حضرت داؤد کے زنائے محصنہ کے مرتکب ھونے اور اس گناہ کبیرہ کے لئے خداوند متعال کی طرف سے سرزنش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان روایتوں میں بھی اسرائیلیات سے نقل کی گئی مشکل موجود ہے کہ حضرت داؤد (ع) نے اس عورت کے شوہر کو بے گناہ قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اس عورت کے ساتھ  ازدواج کرے۔ اور یہ کوئی چھوٹا گناہ نہیں ہے۔
۲۔ کچھ دوسری روایات بھی پائی جاتی ہیں جن میں اس قسم کی داستان کا سرے سے چیلینج کیا گیا ہے اور قرآن مجید کی آیات کو کسی دوسری داستان کی طرف اشارہ جانتی ہیں۔ بعض اسلامی مفکرین نے اس داستان کے جھوٹ ھونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[5]
بہت سے شیعہ[6] اورسنی[7] علماء داستان کے پہلے حصہ کے بارے میں نقل کی گئی روایتوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔
شیعوں کے ائمہ سے نقل کی گئی ایسی روایتیں پائی جاتی ہیں، جن میں اس قسم کی داستان کو بالکل باطل اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے:
الف) امام رضا(ع) کی خدمت میں ایک داستان کو نقل کیا گیا جس کے مطابق حضرت داؤد(ع)محراب میں نماز پڑھنے میں مشغول تھے کہ ابلیس ایک انتہائی خوبصورت پرندے کی شکل میں ان کے سامنے ظاہر ھوا، داؤد(ع)  اپنی نماز توڑکر اس پرندہ کو پکڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ھوئے، پرندہ صحن میں گیا ، داؤد(ع) بھی  اس کے پیچھے اپنے کمرہ سے باہر نکلے، پرندہ اڑ کر چھت پر گیا اور داؤد[ع] بھی پرندہ کے پیچھےچھت پر گئے اور پرندہ وہاں سے اڑ کر اوریا بن حنان کے صحن میں گیا، داؤد پرندہ کو دیکھ رہے تھے اور اسی حالت میں ان کی نظر اوریا کی بیوی پر پڑی جو غسل کر رہی تھی، اس طرح داؤد [ع]اس کے عاشق ھوگئے۔ ایک جانب سے وہ اوریا کو پہلے ہی جنگ میں بھیج چکے تھے۔ داؤد نے اپنی فوج کے کمانڈر کے نام خط لکھا کہ اوریا کو تابوت عہد سے آگےبھیجدے، کمانڈر نے بھی ایسا ہی کیا، اوریا نے مشرکین پرفتح پائی اور یہ مطلب داؤد کے لئے مشکل گزرا۔ لہذا انھوں نے دوبارہ خط لکھا اور حکم دیا کہ اوریا کو تابوت سے آگے بھیجدے، کمانڈر نے اس بار بھی اوریا کو اگلے مورچے پر بھیجا اور اس طرح اوریا قتل کیا گیا اور داؤد نے اس کی بیوی سے ازدواج کی۔
امام رضا(ع) نے یہ داستان سننے کے بعد اپنی پیشانی پرھاتھ مارتے ھوئے فرمایا: " انا للہ و انا الیہ راجعون"۔ آپ نے خدا کے انبیاء (ع) میں سے ایک نبی پر نماز کو اہمیت نہ دینے کی تہمت لگائی ہے اورکہتے ھو کہ وہ نماز کو چھوڑ کر پرندہ کے پیچھے گئے!؟ اور اس کے بعد انھیں غیر اخلاقی جنسی برتاؤ کی تہمت لگائی ہے اور اس کے علاوہ انھیں ایک بے گناہ شخص کے قتل کا سبب جان لیا ہے؟!
امام رضا (ع) سے پوچھا گیا کہ: پس داؤد اور اوریا کا قصہ کیا تھا؟ (کیا ان دونوں نے آپس میں ازدواج نہیں کی ہے؟) ۔ حضرت (ع) نے جواب میں فرمایا :" حضرت داؤد [ع]کے زمانہ میں خدا کا حکم یہ تھا کہ اگر کسی عورت کا شوہر فوت ھو جاتا یا قتل کیا جاتا، تو وہ عورت اس کے بعد کبھی ازدواج نہیں کرتی تھی۔ اور حضرت داؤد (ع) پہلے شخص تھے کہ خداوند متعال نے ان کے لئے قتل شدہ شوہر والی عورت سے ازدواج کرنا جائز قرار دیا ہے ۔ اور حضرت داؤد [ع]نے بھی اوریا کے قتل ھونے اور عدت تمام ھونے کے بعد اس کی بیوی سے ازدواج کی جبکہ حضرت داؤد، اوریا کے قتل کے ذمہ دار نہیں تھے۔ اور یہ وہی چیز ہے جو اوریا کے بارے میں لوگوں کے لئے سخت تھی۔"[8]
ب) امام علی (ع) فرماتے ہیں" اگر میرے پاس کسی ایسے شخص کو لایا جائے جو یہ کہتا ھو کہ داؤد[ع] نے اوریا کی بیوی سے ہمبستری کی ہے، تو میں اس پر دو حد جاری کروں گا ایک حد مقام نبوت کی توہین کے جرم میں اور ایک حد حضرت داؤد[ع] پر ناروا تہمت لگانے کے جرم میں۔"[9]
ج) امام صادق (ع) نے فرمایا ہے:" تمام لوگوں کو راضی نہیں کیا جاسکتا ہے اور ان کی زبانوں کو بند نہیں کیا جاسکتا ہے، کیا انھوں نے یہ (غیر معمولی بری) نسبت داؤد [ع]کو نہیں دی کہ وہ ایک پرندے کے پیچھے اپنے محل کی چھت پر گئے، اور ان کی نظر اوریا کی بیوی پر پڑی، اور اس کے عاشق بن گئے اوراس کے بعد اس کے شوہرکو میدان جنگ میں تابوت عہد کے آگے بھیجدیا تاکہ قتل کیا جائے اور اس کے بعد اس کی بیوی سے شادی کی؟۔"[10]
آخر پر ممکن ہے یہ سوال کیا جائے کہ حضرت داؤد[ع] کے بارے میں نقل کی گئی قرآن مجید کی آیات ، جس میں ان کی غلطی اور استغفار کا ذکر کیا گیا ہے، کا مطلب کیا ہے؟
اس کے جواب میں کہنا چاہئےکہ: اس سلسلہ میں مختلف تفسریں کی گئی ہیں[11]، من جملہ یہ کہ حضرت داؤد (ع) کی خطا، جس کے بارے میں انھیں انتباہ کیا گیا ہے، وہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک فیصلہ میں مدعی سے شاہد طلب کئے بغیر اور طرف مقابل کی بات کو سنے بغیر، جلد بازی میں اسے مجرم قرار دیا ہے کہ یہ جلد بازی تحقیقات میں مطلوب نہیں ہے (حتی اگرآخری حکم تک بھی نہ پہنچ جانے) اور ان کا استغفار بھی اسی سلسلہ میں ہے۔[12]
 

[1]۔ سموئیل 2: باب 11.
[2]۔ خلاصه‌ای از سموئیل 2: باب12.
[3]۔ ص، 21 - 25. ص، 21 - 25.
[4]۔ قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، محقق، مصحح، موسوی جزائری، سید طیب،‏ ج 2، ص 230، قم، دار الکتاب، طبع سوم، 1404ق؛ سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ج 5، ص 302، قم، کتابخانه آیة الله مرعشی نجفی، 1404ق.
[5]۔ ملاحظہ ھو: (سید مرتضی) علم الهدى، على بن حسین‏، تنزیه الأنبیاء‏، ص 88 – 92، قم، دار الشریف الرضی‏، 1377ش‏.
[6]۔ شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، مقدمه، شیخ آقابزرگ تهرانی، تحقیق، ج8، ص 555، قصیرعاملی، احمد، دار احیاء التراث العربی، بیروت، بی تا؛ مغنیه، محمد جواد، تفسیر الکاشف، ج 6، ص 373، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ اول، 1424ق؛ کاشانی، ملا فتح الله، تفسیر منهج الصادقین فی الزام المخالفین، ج 8، ص 46، تهران، کتابفروشی محمد حسن علمی، 1336ش.
[7]۔ ابن عربى، محمد بن عبدالله بن ابوبکر، احکام القرآن، ج 4، ص 1639، بی‌جا، بی‌تا؛ بیضاوی، عبدالله بن عمر، انوار التنزیل و اسرار التأویل، تحقیق، مرعشلی‏، محمد عبد الرحمن، ج 5، ص 27، بیروت، دار احیاء التراث العربی، طبع اول، 1418ق.
[8]۔شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق، مصحح، لاجوردی، مهدی، ج 1، ص 193 - 194، تهران، نشر جهان، طبع اول، 1378ق.
[9]۔. «لا اوتى برجل یزعم داود تزوج امرأة اوریا الا جلدته حدین حدا للنبوة و حدا لما رماه به‏»؛ قطب الدین راوندی، سعید بن هبة الله، قصص الأنبیاء، محقق، مصحح، عرفانیان یزدی، غلامرضا، ص 203، مشهد، مرکز پژوهش های اسلامی، طبع اول، 1409ق؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 14، ص 26، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، طبع دوم، 1403ق.
[10]۔«ان رضا الناس لا یملک، و السنتهم لا تضبط، ا لم ینسبوا داود الى انه تبع الطیر حتى نظر الى امرأة اوریا فهواها، و انه قدم زوجها امام التابوت حتى قتل ثم تزوج بها»؛ شیخ صدوق، الامالی، ص 103، بیروت، اعلمی، طبع پنجم، 1400ق.
[11]۔ طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج 17، ص 193، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع پنجم، 1417ق؛ طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمه، بلاغی‏، محمد جواد، ج 8، ص 735 – 736، تهران، ناصر خسرو، طبع سوم، 1372ش.
[12]۔ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا ع، ج 1، ص 194.
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا

روابط