اعلی درجے کی تلاش
کا
3517
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2015/06/15
سوال کا خلاصہ
مومنین کے آپس میں معانقہ(گلے ملنے) کا کیا ثواب ہے؟ کیا پے در پے تین بار معانقہ کرنا کسی حدیث میں آیا ہے؟
سوال
مومنین کے درمیان معانقہ کا کیا ثواب ہے؟ کیا اعیاد کے دن تین بار پے در پے معانقہ کرنا کسی حدیث میں آیا ہے؟ اس مین کیا فلسفہ ہے؟
ایک مختصر
الف) تمام احکام و آداب، جو دینی تعلیمات میں سفارش کئے گئے ہیں، مصالح اور مفاسد کی بنیاد پر ہیں اور ان میں سے اکثر کےفلسفہ کے بارے میں آیات و روایات میں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنہ نہیں ہیں ہم ان کی حکمت اور فلسفہ کے جزئیات تک رسائی پیدا کرسکیں۔ اس بنا پر یہی مقدار جو کلی صورت میں ہمارے لئے ثابت ہے کہ یہ آداب خداوند متعال کی طرف سے معصوم(ع) پیشواؤں کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں، ان کی پابندی ہمارے لئے کافی ہے۔
ب) اصل معانقہ( ایک دوسرے سے گلے ملنا)[1] روایتوں میں آیا ہے، لیکن احادیث کی کتابوں میں جستجو اور تحقیق کے بعد ہمیں ایسا کوئی مطلب نہیں ملا کہ تین بار معانقہ کرنے کا ذکر ہو۔ یہان پر ہم معانقہ کے ثواب کے سلسلہ میں چند روایتوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں:
1) امام باقر و امام صادق (ع):" ہر مومن جو اپنے بھائی کو دیکھنے کے لئے جاتا ہے اور بحق اس کو جانتا ہو، خداوند متعال اس کے ہر قدم کے لئےایک ثواب لکھتا ہے اور اس کا ایک گناہ پاک کرتا ہے اور ایک درجہ اوپر لے جاتا ہے اور جب اس کے گھر پہنچ کراس کے دروازے پر دستک دیتا ہے، اس کے لئے آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اور جب ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں اور ہاتھ ملاتے ہیں اور بغل گیر ہوتے ہیں، تو خداوند متعال ان کی طرف رخ کرتا ہے"۔[2]
2) امام صادق (ع) نے فرمایا ہے:" اگر دو مومن آپس میں معانقہ کریں وہ رحمت میں غرق ہوتے ہیں اوراگر خداوند متعال کے لئے اور نہ دنیوی اغراض میں سے کسی غرض کے لئے، ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہوتے ہیں، تو انہیں کہا جاتا ہے کہ تمھارے گناہ بخش دئے گئے، عمل کو دہرائیے( آپ کے گزشتہ برے اعمال پاک ہوئے، اپنے اعمال کو دوبارہ شروع کیجئے"]۔[3]
3( امام صادق (ع) نے فرمایا ہے:" مقیم کے لئے درود وسلام کامل ہے ( جو سفر سے نہیں لوٹا ہے) اور معانقہ بھی اس کے لئے ہے۔'[4]
   قابل ذکر ہے کہ مومنین کے درمیان معانقہ ( مرد مرد سے اور عورت عورت سے) اس صورت میں جائز ہے کہ شہوت کی غرض سے نہ ہو۔[5]
 

[1]۔ رهنگ لغت عمید، واژه «معانقه».
[2] ۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج ‏2، ص 184، تهران، دار الکتب الإسلامیة، طبع چهارم، 1407ق.
[3] ۔ایضاً۔
[4] ۔ ایضاً، ص 646.
[5] ۔ لامه حلّى، حسن بن یوسف، تذکرة الفقهاء، ص 575، قم، مؤسسه آل البیت(ع)، طبع اول، 1388ق.
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا

روابط