اعلی درجے کی تلاش
کا
5702
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2008/11/17
 
سائٹ کے کوڈ fa620 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 3557
سوال کا خلاصہ
معصوم (علیهم السلام) کی موجودگی میں مومنین قرآن مجید سے کس طرح استفاده کرتے تھے؟
سوال
معصوم (علیهم السلام) کی موجودگی میں مومنین کو دینی سوالات کے جوابات کے لیئے قرآن مجید کی طرف رجوع کرنا چاهئے یا معصوم (علیهم السلام) کی طرف؟
ایک مختصر

قرآن مجید میں خداوند عالم کا کلام اور پڑھنے ، سمجھنے اور عمل کرنے کی کتاب هے تا که سارے انسان اس کے احکام پر عمل کے ذریعه سعادتمند زندگی گزارے ۔

لیکن قرآن مجید کی ساری آیتیں معنا و مفهوم کے لحاظ سے یکساں نهیں هیں بلکه بعضی آیات کو سمجھنا آسان اور بعض دوسری آیتوں کا سمجھنا مشکل هے اور تیسری قسم کی ﻜﭽﻬ ایسی آیتیں هیں جن کا سمجھنا نهایت مشکل هے جنھیں فقط مخصوص اور چنے هوئے افراد ﺴﻤﺠﻬ سکتے هیں ۔

معصوم (علیهم السلام) کی موجودگی میں زندگی بسر کرنے والے انسان اگر اهل زبان (عربی) تھے تو هر شخص اپنے علم و دانش کے مطابق قرآن مجید کی طرف رجوع کر کے آیات کے معانی سے مستفیذ هوسکتا تھا ، لیکن ساری آیتوں کو دقیق و کامل طور سے سمجھنے اور ان کے باطنی معنی اور تاویلات سے باخبر هونے کے لیئے ضروری هے که انسان پیغمبر اکرم(صل الله علیه وآله وسلم) اور ائمه طاهرین(علیهم السلام) سے مدد طلب کرے ۔

تفصیلی جوابات

قرآن مجید پروردگار عالم کی جانب سے نازل کرده کلام اور زندگی بسر کرنے کی کتاب هے جس کی آیات میں جینے کا صحیح طریقه بیان هوا هے ، حقیقت میں جب انسان قرآن کی تلاوت کرتا هے تو خداوند عالم انسان سے همکلام هوتا هے اسے چاهئے که کلام الٰهی کو درک کرنے کی کوشش کرے ، جیسا که خود ذات اقدس نے بھی لوگوں کو آیات میں غور و فکر اور تدبر کرنے کی دعوت دی هے [1] ۔ لیکن یه بھی جاننا بهت ضروری هے که قرآن کی ساری آیتیں معنی کے لحاظ سے یکسان نهیں هیں ، بلکه بعض آیات تمام لوگوں کے لیئے هر جگه اور هر زمانے میں قابل فهم هیں اور بعض کے معنی بهت عمیق هیں جن کا سمجھنا صرف مخصوص افراد کے لیئے

ممکن هے اور تیسرے مرحله میں ﻜﭽﻬ ایسی آیتیں هیں جس کے معانی کاملاً عمیق هیں جنھیں مخصوص افراد میں سے بھی منتخب لوگ درک کر سکتے هیں ۔

قرآن مجید ارشاد فرماتا هے: (( قرآن مجید میں دو قسم کی آیتیں هیں ، محکم آیات اور متشابه آیات ۔ ۔ ۔ متشابه آیات کی تاویلیں هیں جنھیں خداوند عالم اور راسخون فی العلم کے سوا کوئی نهیں جانتا [2] ۔

امام محمد باقر(علیه السلام ) فرماتے هیں : (( پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) راسخون فی العلم میں سب سے بزرگ تھے اور جو ﻜﭽﻬ خداوند عالم نے ان پر نازل فرمایا تھا یعنی قرآن کی تاویل و تنزیل ، اس سے وه باخبر تھے ، خداوند عالم نے هرگز آپ (صل الله علیه وآله وسلم) پر کوئی چیز نازل نهیں کی مگر یه که اس کی تاویل آپ کو تعلیم فرمادی تھی ۔ وه (پیغمر (صل الله علیه وآله وسلم) ) اور آپ کے اوصیاء ان تمام چیزوں اور تمام علوم سے باخبر هوتے تھے ))[3] ۔

لهذا جو لوگ معصوم کے دور میں زندگی بسر کر رهے تھے اگر وه اهل زبان(عربی) تھے اور قرآن مجید کے معانی کو درک کرتے تھے تو ان میں سے هر ایک اپنے علم کے مطابق سیدھے قرآن مجید کی جانب رجوع کر کے اس کے معانی سے بهرمند هو سکتا تھا ، لیکن چوں که ان لوگوں کے فهم و ادراک کا درجه پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) اور ائمه طاهرین (علیهم السلام) کے فهم کی حد تک نهیں تھا لهذا قرآن کے عمیق مطالب کو اچھی طرح سمجھنے کے لیئے ضروری تھا که پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) اور ائمه طاهرین (علیهم السلام) کی طرف رجوع کر کے قرآن کے حقائق اور آیات کے معانی اور ان کی تاویل ان حضرات سے حاصل کرتے ۔



[1]  سوره نساء /82 ۔ سوره محمد/24

[2]  ملاحظه هو :سوره آل عمران/7

[3]  اصول کافی ۔ ج 1 ۔ ص 213 ۔ ح2 / باب الراسخین فی العلم ھم الائمۃ (علیهم السلام)

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
تبصرے کی تعداد 0
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا