اعلی درجے کی تلاش
کا
7671
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2014/02/15
سوال کا خلاصہ
کیا امام موسی کاظم ﴿ع﴾ کے بیٹوں میں سے کسی نے امام رضا﴿ع ﴾کو اپنے اعمال سے اذیت و تکلیف پہنچائی ہے؟
سوال
کیا امام موسی کاظم ﴿ع﴾ کے بیٹوں میں سے کسی نے امام رضا﴿ع ﴾کو اپنے اعمال سے اذیت و تکلیف پہنچائی ہے؟
ایک مختصر
روایتوں کے منابع میں جستجواور تلاش کرنے کے نتیجہ میں، امام کاظم ﴿ع﴾ کے بیٹوں میں سے صرف ایک بیٹے ، یعنی زید کے بارے میں کچھ روایتیں ملی ہیں، جن سے معلوم ھوتا ہے کہ اس نے امام رضا ﴿ع﴾ کو اپنے اعمال سے  تکلیف پہنچائی ہے۔ البتہ یہ روایتیں قابل تحقیق و تنقید ہیں۔
جب زید بن موسی بن جعفر نے بصرہ میں بغاوت کی اور بنی عباسیوں کے گھروں کو آگ لگا دی، اسے پکڑ کرمامون کے پاس پہنچا دیا گیا۔ مامون نے اس کے جرم کو علی بن موسی رضا ﴿ع﴾ کے بھائی ھونے کے سبب بخش دیا اور حضرت امام رضا ﴿ع﴾ سے مخاطب ھوکر کہا:“ اگر آپ کے بھائی نے بغاوت کی ہے،  ماضی میں زید بن علی نے بھی قیام کیا تھا اور وہ قتل کئے گئے اور اگر آپ میرے دربار میں نہ ھوتے اور اس موجودہ مقام و منزلت کے مالک نہ ھوتے، تو میں اسے قتل کر ڈالتا، کیونکہ اس کا جرم معمولی نہیں تھا”۔ امام رضا ﴿ع﴾ نے جواب میں فرمایا:“ میرے بھائی زید کا زید بن علی سے موازنہ نہ کرنا، کیونکہ وہ آل محمد﴿ع﴾ کے علماء میں سے تھے، انھوں نے خداوند متعال کے لئے غضب کیا تھا اور خدا کے دشمنوں سے جنگ کی تھی یہاں تک راہ خدا میں قتل کئے گئے۔ ۔ ۔”[1]  اس کے بعد امام رضا﴿ع﴾ اور مامون کے درمیان زید بن علی﴿ع﴾ کے بارے میں گفتگو جاری رہی، کہ جس کا ہماری بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لئے ہم اسے ذکر کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں۔
شیعوں کے دوسرے منابع میں بھی اس حدیث کو کتاب “ عیون الرضا” سے نقل کیا گیا ہے۔[2]
غیر شیعی تاریخی منابع نے بھی اس مطلب کو نقل کیا ہے کہ زید بن موسی نے بصرہ میں کچھ گھروں کو آگ لگا دی تھی۔[3] اور اسی وجہ سے اسے “زید النار” کہا جاتا ہے۔[4]
ایک دوسری روایت میں امام رضا ﴿ع﴾ اور ان کے بھائی زید بن موسی کے درمیان زید کی گرفتاری کے بعد گفتگو بیان کی گئی ہے کہ البتہ اس روایت میں جرم کا مدینہ میں واقع ھونا اور گرفتاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ روایت حسب ذیل ہے:
امام رضا ﴿ع﴾ کے بھائی زید بن موسی نے مدینہ میں بغاوت کی اور کچھ مکانوں کو آگ لگا دی اور کچھ لوگوں کو قتل کیا، اس لحاظ سے اسے “ زید النار” کا لقب دیا گیا ہے۔ مامون کے حکم سے اسے گرفتار کرکے مامون کے پاس لایا گیا، اس نے حکم دیا کہ اسے اپنے بھائی ابوالحسن ﴿ع ﴾ کے پاس لے جائیں ۔ راوی کہتا ہے: جب وہ حضرت امام رضا ﴿ع﴾ کے پاس پہنچا تو امام ﴿ع﴾ نے اس سے مخاطب ھوکر فرمایا:“ اے زید! کیا تمھیں اہل کوفہ کے نادان لوگوں کے کلام نے مغرور کیا ہے کہ روایت کرتے ہیں:«إنّ فاطمة احصنت فرجها فحرّم اللَّه ذرّیّتها على النّار»﴿ فاطمہ نےاپنی عفت کی حفاظت کی پس خداوند متعال نے ان کی ذریت پر آگ کو حرام قرار دیا﴾ یہ صرف حسن و حسین﴿ع﴾ سے مخصوص ہے۔ اگر تم تصور کرتے ھو کہ خدا کی معصیت کا مرتکب ھوکر بہشت میں چلے جاؤ گے اور تیرے باپ موسی بن جعفر ﴿ع﴾ بھی خدا کی اطاعت کرکے بہشت میں داخل ھوں گے، تو اس صورت میں تم خدا کے پاس ان سے محترم تر ھوگے! خدا کی قسم کوئی شخص اطاعت کے بغیر خدا کی بہشت میں داخل نہیں ھوگا، اور تم خیال کرتے ھو کہ معصیت کرکے اس مقام پر پہنچ جاؤ گے، پس تیرا تصور ایک غلط تصور ہے۔” زید نے جواب میں کہا:“ میں آپ کا بھائی اور آپ کے باپ کا بیٹا ھوں”۔ امام ﴿ع﴾ نے جواب میں فرمایا:“ تم اس وقت میرے بھائی ھو جب خدا وند متعال کی اطاعت کرو گے۔ ۔ ۔”[5]
امام موسی بن جعفر﴿ع﴾ کے اس بیٹے کے بارے میں یہ چند روایتیں تھیں۔ لیکن لگتا ہے کہ، اس کی بغاوت اور امام موسی کاظم ﴿ع﴾ کے اس بیٹے کا نافرمان ھونا حقیقت نہیں ہے، بلکہ امام موسی کاظم ﴿ع﴾ کے اس بیٹے نے بنی عباسیوں کے خلاف بغاوت کی تھی اور اس کی اس تحریک کو ایک شیعی تحریک کی نگاہ سے دیکھنا چاہئیے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ مامون اس زید کا زید بن علی سے موازنہ کرتا ہے اور منابع میں بھی نقل کیا گیا ہے کہ اس نے بنی عباسیوں اور ان کے پیرؤں کے گھروں میں آگ لگا دی تھی۔[6] اور امام ﴿ع﴾ کا اس کے ساتھ اس طرح گفتگو کرنا تقیہ پر مبنی ھوسکتا ہے، اس کے علاوہ دوسری روایت کے صحیح ھونے پر اشکال پایا جاتا ہے۔ اس بنا پر زید بن موسی کا خطا کار ھونا اور امام رضا﴿ع﴾ کے مخالف ھونا قابل بحث مسئلہ ہے۔
ہم نے تاریخ کے منابع میں امام رضا﴿ع﴾ کے کسی دوسرے بھائی کو نہیں پایا، جس نے امام ﴿ع﴾ کی مخالفت کی ھو۔
 

[1]  ۔ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق، مصحح، لاجوردی، مهدی، ج 1، ص 248- 249، نشر جهان، تهران، طبع اول، 1378ق.
[2]  ۔.ملاحظہ ھو: فیض کاشانی، محمد محسن، الوافی، ج 2، ص 226، کتابخانه امام أمیر المؤمنین علی(ع)، اصفهان، طبع اول، 1406ق؛ قمی مشهدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، تحقیق، درگاهی، حسین، ج 9، ص 148، سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی، تهران، طبع اول، 1368ش.
[3]  ۔.ملاحظہ ھو: زرکلی، خیر الدین، الاعلام، ج 3، ص 61، دار العلم للملایین، بیروت، چاپ هشتم، 1989م؛ ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و من عاصرهم من ذوی الشأن الأکبر(تاریخ ابن خلدون‏)، تحقیق، خلیل شحادة، ج 3، ص 305،  بیروت، دار الفکر، طبع دوم، 1408ق.
[4]  ۔ ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، ج 6، ص 310، دار صادر، بیروت، 1385ق.
[5]  ۔ عیون أخبار الرضا(ع)، ج ‏2، ص 234؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 49، ص 217 – 218، دار إحیاء التراث العربی، بیروت، طبع دوم، 1403ق.
[6]  ۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک(تاریخ طبری)، تحقیق، ابراهیم، محمد أبو الفضل، ج 8، ص 535، دار التراث، بیروت، طبع دوم، 1387ق.
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
تبصرے کی تعداد 0
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا