اعلی درجے کی تلاش
کا
3057
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2008/12/08
 
سائٹ کے کوڈ fa836 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 3749
سوال کا خلاصہ
اس ادارے سے اپنا حق واپس لینے کے لئے جھاں میں کام کرتا تھا، مجھے کس طرح کا اقدام کرنا چاھئے؟
سوال
میں پھلے ایک اداره میں استاد کے طور پر تین مھینوں تک کام کرتا رھا، وھاں کے ذمھ داروں نے مجھه سے کھا کھ مقرره تاریخ پر خاص رقم آپ کو تنخواه کے طور پر دی جائے گی ۔ انھوں نے مجھه سے جھوٹ بولا۔ تین مھینوں تک میں نے التجا کی لیکن کوئی فایده نھیں ھوا۔ آخر میں نے تنگ آکر اپنا حق لینے کے لئے ڈائریکٹر سے شکایت کی۔ چونکھ میں نے شکایت کی اس لئے انھوں نے مجھے نکال دیا ، میری تنخواه بھی نھیں دی اور کھا کھ جو کچھه آپس میں ھم نے طے کیا ھے اس سے کم رقم آپ کو دیں گے یھاں تک کھ یھ رقم بھی برابر مجھے نھیں دی ، اب مجھے کیا کرنا چاھئے؟انھوں نے میرے اوپر ظلم کیا ھے۔ میں ان سے بھت ناراض ھوں، کیوں کھ ایسے ادارے جو مسلمان ھونے کا دعوی کرتے ھیں اس طرح کا کام کرتے ھیں ؟ وه یھ دعوی کرتے ھیں کھ ھم متقی ھیں لیکن انھوںنے میرے اوپر ظلم کیا اور میرے ساتھه بُرا سلوک کیا؟
ایک مختصر
تفصیلی جواب...
تفصیلی جوابات

شیعھ فقھ میں اجیر (کام کرنے والے ) اور آجر (ٹھیکدار) کے باھمی حقوق کی بحث ایک اھم بحث ھے جو کتاب الاجاره اور کتاب الجعالھ میں بیان ھوئی ھے ، اور ان کے مسائل  کا حکم اس طرح بیان ھوا ھے کھ ان میں سے کسی ایک کا حق ضایع نھیں ھو۔

اس سلسلے میں جس بات پر سب سے پھلے تاکید کی جاتی ھے  وه " قرارداد " کا ضروری  ھونا ھے۔ مزدور اورمزدوری یعنی اجرت کی میزان کو معین کرنا ھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے مزدور کی مزدوری معین کرنے کے بغیر اس کو کام دینے سے منع کیا ھے [1]

امام صادق نے فرمایا: "جس کو خدا اور روز قیامت پر ایمان ھو ، وه مزدور کی اجرت معین کرنے سے پھلے اس کو کام نھیں دیتا ھے۔ [2]

دوسرا نکتھ جس کا  اجاره یا جعالھ کی قرار داد میںخیال رکھنا چاھئے وه فریقین کی  شرطیں اور ذمھ داریاں ھیں جو قرار داد میں ذکر ھوئی ھیں۔ قرآن مجید فرماتا ھے : "اے ایمان والو ! اپنے عھد و پیمان کی پابندی کرو " [3] دوسری جگھ ارشاد ھے: " اپنے عَھدوں کو پورا کرنا کیونکھ تم سے عھد و پیمان کے بارے میں سوال ھوگا" [4]

پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنے عھد و پیمان کو پورا کرتے ھیں۔[5]

پس جو کچھه ایک قرار داد میں شرط کے عنوان سے بیان ھوتا ھے طرفین کو اس کے مطابق عمل کرنا ھے۔ اگر ان میں سے ایک نے کسی بھی شرط پر عمل نھیں کیا تو دوسرا اعتراض کرکے قرار داد کو فسخ کرسکتا ھے جس کو اصطلاح میں خیار تخلف شرط کھتے ھیں۔ [6]

دوسرا نکتھ،  جس پر اسلام نے تاکید کی ھے مزدور کی اجرت کو ادا  کرنے میں جلدی کرنا ھے ، امام صادق علیھ السلام نے فرمایا: مزدور کا پسینھ ابھی نھیں سوکھا ھوکھ اس کی مزدوری ادا کردینی چاھئے۔[7]

اسی طرح فرماتے ھیں: آجر (ٹھیکیدار ) مزدور کی اجرت کا ضامن ھے تا کھ اسے ادا کرے۔ [8]

پس اسلام نے مزدور اور ٹھیکیدار (آجر ) کے درمیان قرار داد لکھنے اور اس کے مندرجات پر عمل کرنے کی بھت تاکید کی ھے اور اس سلسلے  میں  طرفین کی اپنی ذمھ داریوں کی انجام دھی میں لا پروائی برتنے کو وه نھیں مانتا ھے۔

ھم جرات سے یھ بات کھھ سکتے ھیں کھ اس مزدور اور ملازم کا حق ادا کرنے میں کوتاھی کرنا جس نے قرارداد کے مطابق اپنا کام انجام دیا ھے ظلم کے مصداق ھے ، جسے دین اسلام کسی بھی حال میں نھیں مانتا ھے۔ حضرت امام علی علیھ السلام اس سلسلے میں فرماتے ھیں: اگر مجھے سات بر اعظم اور جو کچھه ان کے آسمانوں کے نیچے ھے دئے جائیں، کھ چیونٹی کے منھ سے جَو کا چھلکا لینے کے برابر خدا کی معصیت کروں تو میں ھر گز یھ کام نھیں کروں گا [9]

اس لئے جیسے کسی ذمھ دار کو یھ حق نھیں پھنچتا ھے کھ بیت المال کو بغیر کسی سبب کے کسی کو بخش دے اسی طرح کسی کو یھ حق بھی نھیں پھنچتا ھے کھ وه مزدور اور ملازم کے حق کو روک دے اور بیت المال کی جانب لوٹا دے۔

آخر میں اس بات کی یاد دھانی بھی ضروری ھے کھ "رواق حکمت" کا ثقافتی اداره اور Islam quest .net   ایک ثقافتی اداره ھے جو اعتقادی حوالے سے شبھات اور دینی سوالات کی جواب دھی کے سلسلے میں کام کرتا ھے اورقانون اور عدلیھ کے لحاظ سے کسی بھی طرح کی ذمھ داری نھیں رکھتا ھے ھم نھ فیصلھ کرنے کے مقام پر ھیں اور نھ دعوی کے ایک طرف دلائل سننے کے بعد ھی فیصلھ کرسکتے ھیں۔

ایک عادلانھ فیصلھ اور قضاوت کیلئے دعوا کے طرفین ایک با صلاحیت عدالت میں حاضر ھوکر اپنے معتبر گواھوں کو ایک عادل قاضی کے پاس اپنے دفاع کے حق میں پیش کریں تا کھ قاضی دلائل اور بیانات کے مطابق دونوں طرف کےاسناد و شھود کو سن کر فیصلھ کرسکے



[1]   وسائل الشیعھ ، ج ۱۹ ص ۱۰۵ ، ح ۲۴۲۴۹۔

[2]  کافی ، ج ۵ ص ۳۸۹۔ تھذیب ، ج ۶ ص ۲۸۹۔

[3]  سوره مائده ، / ۱

[4]  اسراء / ۳۴۔

[5]  کافی ، ج ۵ ص ۱۶۹۔ اور ۴۰۴

[6]  امام خمیںی ، نجاه العباد ، ص ۲۵، م ۹۔

[7]  کافی ، ج ۵ ص ۲۸۸۔

[8]  تھذیب ج ۶ ص ۲۸۹۔

[9]  نھج البلاغھ ، خطبھ ۲۱۹۔

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
تبصرے کی تعداد 0
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
<< مجھے کھینچ کر لائیں.
سیکورٹی کوڈ از صحیح رقم درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا