کا
5077
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2013/07/15
 
سائٹ کے کوڈ fa14281 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 22616
سوال کا خلاصہ
کیا عدم و نیستی کا خارج میں وجود ہے؟
سوال
میرے ذہن میں ایک خیال تھا کہ ہر چیز موجود ہے؛ حتی کہ نیستی بھی، یعنی ایسی کوئی ماہیت نہیں ہے، جس کا وجود نہیں ہے، لیکن تھوڑا غور کرنے کے بعد حسب ذیل نتائج پر پہنچا ہوں: اگر ہر چیز موجود ہو اور نیستی کا وجود نہ ہو،تو کوئی چیز عدم سے وجود میں نہیں آئی ہے،یعنی پہلے سے موجود تھی { یہاں پر ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدا کے وجود کا عدم ہونا ، یعنی خدا نیستی سے وجود میں نہیں آیا ہے اور پہلے سے تھا اور یہ خدا کو ثابت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ لیکن اگر سب چیزیں پہلے سے موجود تھیں، پس خدا بھی ان سب چیزوں کے ساتھ پہلے سے موجود تھا اور اس طرح خدا میں نقص پیدا ہوتا ہے} اس کے علاوہ اگر تمام چیزیں پہلے سے موجود ہوں ، تو جو چیز نیستی سے نہیں ہے، وہ کیا ہے؟
ایک مختصر

وجود کی دو قسمیں ہیں: وجود خارجی اور وجود ذہنی۔ عدم و نیستی کا وجود وجود خارجی کی صورت میں محال اور ناممکن ہے، کیونکہ اس طرح اجتماع نقیضین لازم آتا ہے۔ لیکن عدم کا وجود ذہنی کی صورت میں ہونا ممکن ہے۔ چنانچہ باری تعالیٰ کے شریک کا وجود، ذہنی ہے اور خارج میں ناممکن ہے کہ اس وجود سے کوئی استفادہ کیا جائے۔ دوسری جانب خداوندمتعال کے ثبوت کے برہان، خدا کا قدیم اور ازلی ہونا اور غیرخدا کے حادث ہونے کو بھی ثابت کرتا ہے۔

تفصیلی جوابات

وجود کی کئی قسمیں اور مراتب ہیں۔ ایک تقسیم بندی کے مطابق وجود کو وجود خارجی اور وجود ذہنی میں تقسیم کیا گیا ہے[1]۔ وجود خارجی، یعنی خود شے خارج مِں موجود ہوتی ہے اور اس میں خارجی وجود کے تمام اثرات موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آگ خارج میں موجود ہے، یہی خارج میں موجود آگ کے اپنے خاص اثرات، یعنی روشنی اور گرمی پائے جاتے ہیں، اس قسم کے وجود کو وجود خارجی کہتے ہیں۔ اب آپ اسی آگ کا ذہن میں تصور کیجئیے۔ تو آپ دیکھیں گے کہ آگ آپ کے ذہن میں موجود ہے، لیکن خارج میں موجود ہونے کے ساتھ اس کا فرق یہ ہے کہ اس سے متعلق اثرات یہاں پر نہیں پائے جاتے ہیں۔ یعنی ذہن میں موجود یہ آگ نہ جلاتی ہے اور نہ اس کی روشنی ہے۔ اس وجود کو وجود ذہنی کہا جاتا ہے۔ اور اس میں کوئی منافات نہیں ہے کہ ایک ناممکن امر ذہن میں ایک نفسانی کیفیت کے عنوان سے پیدا ہو جائے، لیکن خارج میں نہ ہو۔مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ خداوندمتعال کے لیے شریک کا وجود محال اور ناممکن ہے اور کبھی موجود نہیں ہوگا، جبکہ ہم اس پر بحث کرتے ہیں اور جس چیز پر بحث کرتے ہیں ، قطعاً اس کے وجود سے استفادہ کیا جاتا ہے، یہاں پر ہم کہتے ہیں کہ شریک باری تعالیٰ کا وجود خارج میں نہیں ہے، لیکن ذہن میں موجود ہے۔ اس بنا پر باری تعالیٰ کا شریک جو خارج میں ناممکن و محال امر ہے ، نفسانی کیفیت کے عنوان سے ذہنی وجود رکھتا ہے اور خود ممکن بالذات اور خداوندمتعال کی مخلوق ہے۔

پس، کلی طور پر جو کچھ ذہن میں آئے وہ ایک ذہنی امر اور ایک ذہنی اثر کے عنوان سے اپنی حد میں ایک ذہنی تصور ہے کہ نفسانی کیفیت کے عنوان سے وجود رکھتا ہے اور بہرحال انسان کے ذہن پر ایک بوجھ ہوتا ہے اگرچہ خارج میں ہرگز موجود نہ ہو۔

پس وجود و عدم کی سرحدیں واضح ہیں اور وجود  یا خارجی ہوگا یا ذہنی اور اس کی کوئی تیسری قسم نہیں ہو سکتی ہے اور اس طرح واضح ہے کہ نیستی کے وجود ذہنی ہونے کے معنی ہیں نہ کہ خارجی وجود کے، اس بنا پر نیستی کا مفہوم بھی ایک ذہنی کیفیت کے عنوان سے دوسری تمام ذہنیات اور ذہنی کیفیات کے مانند اپنے لیے وجود رکھتا ہے اور اس کی اس سے کوئی منافات نہیں ہے کہ خارجی وجود نہ رکھتا ہو، کیونکہ اگر ہم یہ کہیں کہ نیستی کا خارجی وجود ہے تو اجتماع نقیضین لازم آئے گا، یعنی ایک چیز نیستی کے عنوان سے نہیں ہوگی اور وہی چیز وجود کےلحاظ سے موجود ہوگی اور اس قسم کی چیز عقل کے لحاظ سے ناممکن و محال ہے۔

دوسری جانب یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ تمام چیزیں اول سے موجود تھیں اور نتیجہ کے طور پر ہم اس طرح خداوندمتعال کے واحد ، قدیم اور ازلی ہونے کو زیر سوال قرار دیتے ہیں۔ حدوث عالم کو مختلف دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور برہان امکان و وجوب ، کہ جس سے خداوندمتعال کا وجود ثابت ہوتا ہے، اسی پر مبنی ہے کہ خداوندمتعال کے علاوہ ہر چیز علل و اسباب کی محتاج ہے، یعنی کوئی چیز نہیںتھی اور ہوئی ہے۔

 


[1] علامه طباطبایی، بدایة الحکمة، ص 35، موسسة النشر الاسلامی، قم، 1428 ق.

 

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا