کا
4927
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2009/01/17
 
سائٹ کے کوڈ fa702 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 3934
سوال کا خلاصہ
کیا یه صحیح هے که امام حسین علیه السلام علی اصغر (ع) کے دھان کی رطو بت سے اپنی زبان کوتر کر نے کے لئےاستفاده کر نا چاهتے تھے؟ تاکه اپنے خطبه کو جاری رکھـ سکیں اور دشمن کو امر بالمعروف کریں اور دشمن نے امام کے خطبه کے جاری رھنے کے ڈر سے علی اصغر(ع)) کے گلے پر تیر مارا؟
سوال
کیا یه صحیح هے که امام حسین علیه السلام علی اصغر (ع) کے دهنان کی رطوبت سے اپنی زبان کو تر کر نے کے لئے استفاده کر نا چاهتے تھے ؟ تاکه اپنے خطبه کو جاری رکھـ سکیں اور دشمن کو امر بالمعروف کریں اور دشمن نے امام کے خطبه کے جاری رھنے کے ڈر سے علی اصغر(ع) کے گلے پر تیر مارا؟
ایک مختصر
تفصیلی جواب...
تفصیلی جوابات

جو کچھـ بیان کیا گیا ، وه نه تاریخی واقعه کے مطابق هے اورنه عقل سے جوڑ کھاتا هے- اس معنی میں که اولاً : یه مطلب کسی بھی کتاب یا مقتل میں اس طرح ذکر نھیں هوا هے – کیونکه کتابوں میں آیا هے که: امام حسین علیه السلام اپنی بهن ام کلثوم کے پاس تشریف لائے اور فر مایا : بهن! میں تجھے اپنے بیٹے کے بارے میں وصیت کر تا هوں، کیونکه وه چھـ ماه کا ایک چھوٹا بچه هے- [1]ام کلثوم نے عرض کی : اس بچے نے تین دن سے پانی نهیں پیا هے ، اس کے لئے تھوڑا سا پانی لایئےاور امام حسین علیه السلام بچے کوگود میں لے کر اس قوم کے پاس لے آئے اور فر مایا : تم لوگوں نے میرے بھائیوں ،فرزندوں اور اصحاب کو قتل کیا اور اب اس بچے کے علاوه کوئی نهیں بچا هے اور یه بھی پیاس سے تڑپ رها هے ایک گھونٹ پانی پلا کر اس کی پیاس بجھا دو! ایک اور عبارت میں یوں آیا هے که امام حسین علیه السلام نے بچے کو هاتھـ میں لے کر یوں فر مایا : اے لوگو! اگر مجھـ پر رحم نهیں کرتے هو تو کم از کم اس بچے پر رحم کرو-

جب امام (ع) ان سے خطاب فر ما رهے تھے ، ظالموں کی طرف سے ایک تیر پھینکاگیاجس نے بچے کے گلے کو ایک کان سے دوسرے کان تک ذبح کر کے رکھـ دیا-  امام حسین علیه السلام اس طفل شیر خوار کے خون کو اپنی هتیلی میں لے کر آسمان کی طرف پھینکتے هوئے فر ماتے تھے : خداوندا! میں تجھے اس قوم کے لئے شاهد رکھتا هوں که اس نے پیغمبر (ص) کے گھرانے سے ایک شخص کو بھی زنده نه رکھنے کی ٹھان لی هے---[2]

ثانیاً : اس قسم کی چیز عقلی اصول کے مطابق نهیں هے، یعنی یه ممکن نهیں هے که ایک طفل شیر خوار کے دها ن کی رطوبت سے اس قدر استفاده کیا جاسکے جس سے خطبه دینے یا اسے جاری رکھنے کے لئے گلا تر کیا جاسکے! اور دوسری جانب سے کوئی بھی عقلمند انسان ایسا کام انجام نهیں دیتا هے، امام حسین علیه السلام کی بات هی نهیں کیونکه امام معصوم هیں اور ان کی طرف سے عقل و عشق سے ایک ساتھـ پورا پورا استفاده کر نے کے عمل نے سب کو متحیر کر کے رکھـدیا هے-



[1] -اس طفل شیر خوار کے نام کے بارے میں ارباب مقاتل نے کها هے که ان کا نام عبدالله بن حسین تھا اور یه که کیا عبدالله وهی علی اصغر هیں یا امام حسین (ع) کا اس نام سے کوئی دوسرا شیر خوار بچه عاشور کے دن شهید هوا هے ، اس سلسله میں دو نظریئے پائے جاتے هیں:

الف- علی اصغر ، وهی شیر خوار عبدالله هے اور یه دونوں نام ایک هی بچه کے هیں-

ب- یه دو نام ایک هی بچے کے نهیں هیں بلکه عبدا لله کی والده کا نام ام اسحاق بنت طلحه بن عبدالله تھا اور علی اصغر کی ما ں کا نام رباب بنت امر القیس تھا- ملاحظ هو: اشتهاردی ، محمد مھدی، "سوگنامه آل محمد"

[2]- ملا حظه هو: اولین تاریخ کربلا مقتل حسین، تالیف ابی منحنف ،ترجمه انصاری ص١٣٠، لهوف ، سید ابن طاٶس، ترجمه ڈاکٹرعقیقی بخشایش ص١٤٣،آموز الشهادت اور ترجمه کامل نفس المهوم ونقشه المصدور،تالیف شیخ عباس قمی ، ترجمه آیت الله کمره ای ص١٦١، منتهی الآمال ازشیخ عباس قمی ، بحار الانوار، علامه مجلسی ، ج٤٥، الارشاد ، شیخ مفید، تذ کرهۃ الشهدا ، محمد حبیب الله کاشانی-

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا