کا
5080
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2013/03/18
سوال کا خلاصہ
پیغمبر اسلام {ص} کے برخلاف، امام علی {ع} کیوں جوان عورتوں کو سلام نہیں کرتے تھے؟ رسول خدا {ص} اور علی {ع} کے درمیان اس روش میں اختلاف کی وجہ کیا تھی؟
سوال
امیرالمومنین حضرت علی{ع} سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ:" پیغمبر اسلام {ص} تمام عورتوں، من جملہ بوڑھی اور جوان عورتوں کو سلام کرتے تھے، لیکن میں صرف بوڑھی عورتوں کو سلام کرتا ھوں"- اس روایت کے بارے میں میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا ھوئے ہیں: الف} اصل روایت کیا ہے اور کس کتاب میں ذکر کی گئی ہے؟ ب} رسول خدا{ص} اور امیرالمومنین {ع} کے درمیان اس روش میں فرق کی وجہ کیا تھی؟ ج} اس زمانہ میں عورتوں کے درمیان رائج حجاب کےعنوان سے نقاب استعمال کرنے اور دستور:" قل للمومنین یغضوا من ابصارھم" کے پیش نظر حضرت {ع} کو عورت کا، جوان یا بوڑھی ھونا کہاں سے معلوم ھوتا، تھا تاکہ اس کے مطابق سلام کرتے یا نہ کرتے؟ اس سلسلہ میں ہمارا فریضہ کیا ہے؟
ایک مختصر
الف} مذکورہ روایت احادیث کی مختلف کتابوں میں، من جملہ اصول کافی ج۲، ص ۶۴۸ میں آئی ہے-
ب} پیغمبر اسلام {ص} اور امام علی {ع} کی سیرت میں فرق کی وجہ،خود حضرت{ع} روایت میں بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ممکن ہے، جوان عورتوں کی سریلی آواز خدانخواستہ نفس میں وسواس پیدا ھونے کا سسب بنے- شائد امام علی {ع} کی عمرکا فرق اور پیغمبر اکرم {ص} کی بہ نسبت جوان ھونا اور یا اس زمانے کا عرف ھو-
ج} اس زمانہ کی عورتوں کا رائج پردہ نقاب تھا، اس کے علاوہ امام {ع} روایت میں صراحت کے ساتھ جوان عورتوں کی آواز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس لئے قدرتی طور پر ان کے چہروں پر نگاہ کرنا منتفی ہے-
د} اگر کوئی اس سنت حسنہ پر عمل کرنا چاہے، اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ امام علی {ع} کے طریقہ کار پر عمل کرے، کیونکہ اس طرح ہر قسم کے شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہے گا-
 
تفصیلی جوابات
اس سوال پر توجہ کرنے سے پہلے، اسلامی ثقافت میں سلام کرنے کے باب پر نظر ڈالنا ضروری ہے، اور وہ یہ ہے کہ:" سلام" ایک عربی لفظ ہے، اس کی بنیاد" سلم" ہے اور اس کے متعدد معنی ہیں، ان میں سے ایک صلح اور ضدجنگ ہے- اس کے علاوہ یہ لفظ، اسماء اللہ میں سے ہے، کیونکہ خداوند متعال ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک و"سالم " ہے-[1]
اسلام میں، سلام کرنے کی کافی تاکید کی گئی ہے اور روایتوں میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام {ص} سلام کرنے میں ہمیشہ دوسروں کی بہ نسبت پہل فرماتے تھے- اعراب، حتی خدا حافضی کے وقت بھی " سلام علیکم" کہہ کر خدا حافضی کرتے ہیں-
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور اسے اپنے ہم نوعوں سے رابطہ رکھنے، دوستی اور محبت قائم کرنے کی ضرورت ہے- دو انسانوں کے درمیان رابطہ بر قرقر کرنے کے سلسلہ میں پہلا صحیح و سالم مرحلہ سلام ہے اور اس میں متعدد پیغامات مضمر ہیں، جیسے: دوستی، اخلاص، محبت، انکساری، دعائے خیر، اور طرف مقابل کو اطمینان دلانا وغیرہ- " سلام " کا لفظ، ایک انتہائی خوبصورت اور بامعنی لفظ ہے کہ ہم اس کے ذریعہ اپنے مد مقابل کے شخص کے لئے دعائے خیر اور صحت و سلامتی کی تمنا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اسے اطمینان دلاتے ہیں کہ ہماری طرف سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا- پیغمبر اسلام {ص} سے نقل کی گئی روایتوں میں " سلام" کو دوستی اور محبت بڑھنے کا سبب جانا گیا ہے-[2] اسی بنا پر اسلام میں سلام کرنے کی کافی تاکید کی گئی ہے- اور اسے ایک مستحب امر شمار کیا گیا ہے اور خدا کی طرف سے اس کا کافی اجر و ثواب ہے- لیکن سلام کا جواب دینا واجب ہے- امام حسین {ع} نے فرمایا ہے:" سلام کرنے کے ستر{۷۰} ثواب ہیں اور ان میں سے ۶۹ ثواب سلام کرنے والے کو ملتے ہیں اور صرف ایک ثواب جواب دینے والے کو ملتا ہے-"[3] کیونکہ سلام کرنا مستحب ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے"-
اس کے علاوہ فرمایا ہے:" {کنجوس} وہ ہے، جو سلام کرنے میں بخل کرے"[4][5] اس بنا پر جو کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام {ص] سلام کرنے میں ہمیشہ دوسروں سے پہل فرماتے تھے اور کبھی کوئی شخص، آنحضرت {ص} کے مقابلے میں سلام کرنے میں پہل نہیں کرسکا ہے، شائد اسی لئے ھو کہ آنحضرت {ص} مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل تھے-[6] اور جو کچھ فرماتے تھے، اس پر خود بھی عمل کرتے تھے اور اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام کے احکامات کی رعایت کرنے کی دعوت دیتے تھے تاکہ اسلامی معاشرہ اس کے نتائج سے بہرہ مند ھوسکے- ان ہی احکامات اور دستورات کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان دوستی اور محبت کا رواج پیدا ھوا-
اب ہم، سوال کے متن میں ذکر کئے گئے مطالب کی ترتیب سے ذیل میں ان کا جواب دیتے ہیں:
الف} مد نظر روایت، یعنی:" "عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) يُسَلِّمُ عَلَى النِّسَاءِ وَ يَرْدُدْنَ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ (ع) يُسَلِّمُ عَلَى النِّسَاءِ وَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَى الشَّابَّةِ مِنْهُنَّ وَ يَقُولُ أَتَخَوَّفُ أَنْ يُعْجِبَنِي صَوْتُهَا فَيَدْخُلَ عَلَيَّ أَكْثَرُ مِمَّا أَطْلُبُ مِنَ الْأَجْرِ"؛" حضرت علی {ع} عورتوں کو سلام کرتے تھے، لیکن عورتوں کے سلام کا جواب دینے میں اکراہ فرماتے تھے: میں اس امر سے فکرمند ھوں کہ ان کی آواز سن کر تعجب کروں اور اس کام کا نقصان میرے لئے فائدہ سے زیادہ ھو؛"[7] یہ روایت  مختلف کتابوں میں، من جملہ، اصول کافی، ج ۲، ص ۶۴۸ میں آئی ہے-
ب} یہ سوال کہ امام علی {ع} کیوں عورتوں کے سلام کا جواب نہیں دیتے تھے؟ اولاً: اس کی دلیل خود امام {ع} نے اسی حدیث میں بیان کی ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے جوان عورتوں کی سریلی آواز، خدانخواستہ، نفس میں وسواس  پیدا کرنے کا سبب بنے اور اس کے منفی نتائج سلام کرنے کے ثواب سے زیادہ ھوں- ثانیاً: پیغمبر اکرم {ص} کی سیرت کے ساتھ امام علی {ع} کی سیرت کا فرق شائد امام علی {ع} کی عمرکا آنحضرت {ع} کی عمر کے ساتھ تفاوت اور حضرت {ع} کے جوان تر ھونے کے سبب ھو- ثالثاً: ممکن ہے سیرت میں یہ فرق اس زمانہ کے عرف و رسومات کی وجہ سے ھو، یعنی اس زمانہ کے معاشرہ کا عرف پسند نہیں کرتا تھا کہ ایک جوان مرد ایک جوان نا محرم عورت کو سلام کرے، چنانچہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسا ہی ہے، آج کے عرف میں بھی یہ رسم نہیں ہے کہ ایک جوان مرد ایک نامحرم جوان عورت کو سلام کرے- چونکہ بڑھاپے میں ایسے ممکنات اور احتمالات منتفی ہیں، اس لئے بوڑھی عورتوں کو سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے- اس کے علاوہ جو معاشرہ میں مرسوم ہے، وہ یہ ہے کہ عورتیں مردوں کو سلام کرتی ہیں، حتی بوڑھی عورتیں، جوان مردوں کو سلام کرتی ہیں-
ج} اما یہ کہ آپ نے کہا ہے کہ اس زمانہ کی عورتوں کے پردے میں نقاب کا رواج تھا، اس سلسلہ میں قابل بیان ہے کہ: ایسا نہیں تھا کہ پیغمبر اکرم {ص} کے زمانہ میں اکثر عورتیں معاشرہ میں نقاب پوش صورت میں باہر آتی تھیں- صدر اسلام کے پردے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے آپ ہماری اسی سائٹ کے سوال نمبر ۴۳۱{ سائٹ: ۴۵۹} کا مطالعہ کرسکتے ہیں- جو کچھ آپ نے آیہ شریفہ:" قل للمومنین یغضوا من ابصارھم"-[8] یعنی" مومنین سے کہدو کہ اپنی آنکھوں کو نامحرموں کے سامنے بند کریں"- کے بارے میں کہا ہے، اس سلسلہ میں آیہ شریفہ کے مراد کو سمجھنے کے لئے آپ کتاب کافی میں، امام محمد باقر {ع} سے نقل کی گئی اس کی شان نزول کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں، اور اس کے علاوہ آپ ہماری اسی سائٹ کے سوال: ۴۳۱{ سائٹ:۴۵۹} کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں-" یغضوا{ خز کے وزن پر}مادہ" غض" سے ہے اور اس کے معنی کم کرنا اور نقصان ہے اور بہت سے مواقع پر یہ لفظ آواز کو کم کرنے یا نگاہ کو روکنے کے معنی میں استعمال ھوا ہے، اس بنا پر آیہ شریفہ یہ  نہیں کہتی ہے کہ مومنین کو اپنی آنکھیں بند کرنی چاہئیے، بلکہ کہتی ہے کہ اپنی نگاھوں کو کم اور کنٹرول کرو اور یہ ایک لطیف تعییر ہے، اگر انسان کسی نا محرم عورت سے روبرو ھو جائے اور وہ اپنی آنکھوں کو بالکل بند کرے، تو اسے راہ چلنے میں رکاوٹ پیدا ھوگی، لیکن اگر وہ اپنی نظروں کو ہٹا کر نگاہیں نیچے کرے، گویا اس نے اپنی نگاھوں کو کم کیا ہے اور ممنوع صحنہ کو اپنی نگاھوں سے بالکل حذف کیا ہے-[9]
اس بنا پر اولاً: آیہ ان لوگوں سے خطاب کرتی ہے جو نا محرموں پر مسلسل نظر ڈالتے ہیں، نہ یہ کہ اتفاقاً ان کی نگاہ نا محرم پر پڑتی ہے- ثانیاً: ہمیشہ ایسا نہیں ہے کہ افراد کو صرف نگاہ سے پہچانا جائے، ممکن ہے اگر کوئی عورت نقاب پوش بھی ھوتو اس کے چلنے سے تشخیص دی جاسکتی ہے کہ وہ عورت جوان ہے یا بوڑھی- امام علی {ع} بھی جب کوچہ و بازار میں اتفاق سے کسی عورت کے ساتھ روبرو ھوتے تھے، وہ تشخیص دیتے تھے کہ یہ عورت جوان ہے یا بوڑھی ، یا جب خواتین امام {ع} کی خدمت میں حاضر ھوتی تھیں یا فقراء کی مدد کرنے کے لئے کسی گھر میں جاتے تھے، قدرتی طور پر عورتوں سے روبرو ھوتے تھے اور اس حالت میں جوان عورتوں کو سلام کرنے سے پرہیز کرتے تھے-
د} مذکورہ وضاحتوں سے معلوم ھوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس نیک سنت پر عمل کرنا چاہے، تو اس کے لئے بہتر ہے کہ امام علی {ع} کے طریقہ کار کو اپنائے، کیونکہ اس طرح ہر قسم کے شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہے گا-
 

[1] - ملاحضہ ھو: لویس معلوف، المنجد.
[2] - محدث نوری، مستدرك‏الوسائل، ج 8، ص 454، موسسه آل البیت، قم، 1408ق، "قَالَ (ع) طَلَاقَةُ الْوَجْهِ بِالْبِشْرِ وَ الْعَطِيَّةِ وَ فِعْلُ الْبِرِّ وَ بَذْلُ التَّحِيَّةِ دَاعٍ إِلَى مَحَبَّةِ الْبَرِيَّةِ".
[3] - تحف العقول، ترجمه جعفرى، ص 229.
[4] -ایضاً، ص 229.
[5] - اقتباس، از پاسخ، 6923.
[6] - احزاب، 21، "لَقَدْ كانَ لَكُمْ في‏ رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَ الْيَوْمَ الْآخِرَ وَ ذَكَرَ اللَّهَ كَثيراً".
[7] - ملاحضہ ھو: کلینی، اصول کافی، ج 2، ص 648، دارالکتب الاسلامیة، تهران، 1365ش.
[8] - نور، 30.
[9] - مکارم شیرازی، تفسير نمونه، ج ‏14، ص 437، دارالکتب الاسلامیة، تهران، طبع بیست و یکم، 1381.
دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا